أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ: " اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو چوپائے سے بدفعلی کرتا ہے کہ: ”فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ، وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ مَعَهُ "، فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ؟ فَقَالَ: مَا سَمِعْتُ ⦗٤٠٧⦘ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْ لَحْمِهَا، أَوْ يُنْتَفَعَ بِهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْعَمَلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو تم جانور سے بدفعلی کرتے ہوئے دیکھو تو دونوں کو قتل کر دو، جانور کو بھی۔“ پوچھا گیا: جانور کا کیا قصور؟ فرمایا: میں نے اس بارے میں نبی ﷺ سے تو کچھ نہیں سنا، لیکن میری رائے یہ ہے کہ اب اس جانور سے فائدہ اٹھانا، گوشت کھانا مکروہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، ثنا عَمْرٌو، بِإِسْنَادِهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ " وَقَالَ: " اقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا، لَا يُقَالُ: هَذِهِ الَّتِي فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو (بن ابی عمرو) اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو جانور سے بدفعلی کرے اور فاعل مفعول دونوں کو قتل کر دو تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا گیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَشْهَلِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ " وَرُوِّينَاهُ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنی محرم عورت یا جانور سے زنا کرے، اسے قتل کر دو اور جانور کو بھی قتل کر دو۔“
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ، قَالَ: " لَا حَدَّ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی جانور سے بدفعلی کرے؟ فرمایا: اس پر کوئی حد نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ، أَوْجُهٍ عَنْ عِكْرِمَةَ، وَلَا أَرَى عَمْرَو بْنَ أَبِي عَمْرٍو يُقَصِّرُ عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، فِي الْحِفْظِ، كَيْفَ وَقَدْ تَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ جَمَاعَةٌ؟ وَعِكْرِمَةُ عِنْدَ أَكْثَرِ الْأَئِمَّةِ مِنَ الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کو ضعیف قرار دیتی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہ روایت عکرمہ سے کئی طرق سے روایت کی ہے، اور میں نہیں سمجھتا کہ عمرو بن ابی عمرو حافظے میں عاصم بن بہدلہ سے کم ہیں، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ایک جماعت نے ان کی روایت میں ان کی متابعت کی ہے؟ اور عکرمہ اکثر ائمہ کے نزدیک ثقہ اور ثبت راویوں میں سے ہیں، واللہ اعلم۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہ روایت عکرمہ سے کئی طرق سے روایت کی ہے، اور میں نہیں سمجھتا کہ عمرو بن ابی عمرو حافظے میں عاصم بن بہدلہ سے کم ہیں، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ایک جماعت نے ان کی روایت میں ان کی متابعت کی ہے؟ اور عکرمہ اکثر ائمہ کے نزدیک ثقہ اور ثبت راویوں میں سے ہیں، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: مَنْ أَتَى الْبَهِيمَةَ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو جانور سے بدفعلی کرے اس پر حد قائم کی جائے گی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الرَّحَبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سُئِلَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ رَجُلٍ، أَتَى بَهِيمَةً قَالَ: " إِنْ كَانَ مُحْصَنًا رُجِمَ " وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي.
حافظ ثناء اللہ
حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کوئی جانور سے بدفعلی کرلے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: اگر شادی شدہ ہے تو رجم کیا جائے گا۔