کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: زنا کے گواہوں کا بیان جب وہ چار پورے نہ ہوں۔
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ مِنْ شَأْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَالْمُغِيرَةِ الَّذِي كَانَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَدَعَا الشُّهُودَ فَشَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ وَشِبْلُ بْنُ مَعْبَدٍ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ نَافِعٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ شَهِدَ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ: شَقَّ عَلَى عُمَرَ شَأْنُهُ، فَلَمَّا قَامَ زِيَادٌ قَالَ: إِنْ تَشْهَدْ إِنْ شَاءَ اللهُ إِلَّا بِحَقٍّ؟ قَالَ زِيَادٌ: أَمَّا الزِّنَا فَلَا أَشْهَدُ بِهِ، وَلَكِنْ قَدْ رَأَيْتُ أَمْرًا قَبِيحًا، قَالَ عُمَرُ: اللهُ أَكْبَرُ حُدُّوهُمْ فَجَلَدُوهُمْ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ بَعْدَمَا ضَرَبَهُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ زَانٍ، فَهَمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُعِيدَ عَلَيْهِ الْجَلْدَ، فَنَهَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ: إِنْ جَلَدْتَهُ فَارْجُمْ صَاحِبَكَ، فَتَرَكَهُ وَلَمْ يَجْلِدْهُ.
حافظ ثناء اللہ
قسامہ بن زہیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکرہ اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ پیش آیا۔۔۔ پھر لمبی حدیث ذکر فرمائی جس میں یہ بھی تھا کہ گواہ منگوائے گئے تو سیدنا ابوبکرہ، شبل بن معبد اور ابو عبداللہ نافع رضی اللہ عنہم نے گواہی دے دی۔ جب ان تینوں نے گواہی دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بڑا شاق گزرا، جب زیاد گواہی دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو کہا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ میں حق کے ساتھ گواہی دوں گا۔ جہاں تک زنا ہے وہ میں نے نہیں دیکھا، لیکن بہت بری حالت میں دیکھا تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہا اور حکم دیا کہ انہیں حدِ قذف لگائی جائے۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ حد لگنے کے بعد بھی یہ کہتے تھے کہ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم“ اس نے زنا کیا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ارادہ کیا کہ اسے حد لگائیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر دوبارہ حد لگاؤ گے تو مغیرہ کو رجم کرنا پڑے گا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رک گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 17042
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ، وَنَافِعَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ، وَشِبْلَ بْنَ مَعْبَدٍ، شَهِدُوا عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُمْ رَأَوْهُ يُولِجُهُ وَيُخْرِجُهُ، وَكَانَ زِيَادٌ رَابِعَهُمْ، وَهُوَ الَّذِي أَفْسَدَ عَلَيْهِمْ، فَأَمَّا الثَّلَاثَةُ فَشَهِدُوا بِذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: وَاللهِ لَكَأَنِّي بِأَثَرِ جُدَرِيٍّ فِي فَخِذِهَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ رَأَى زِيَادًا: إِنِّي لَأَرَى غُلَامًا كَيِّسًا لَا يَقُولُ إِلَّا حَقًّا، وَلَمْ يَكُنْ لِيَكْتُمَنِي شَيْئًا، فَقَالَ ⦗٤٠٩⦘ زِيَادٌ: لَمْ أَرَ مَا قَالَ هَؤُلَاءِ، وَلَكِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رِيبَةً، وَسَمِعْتُ نَفَسًا عَالِيًا، قَالَ: فَجَلَدَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَخَلَّى عَنْ زِيَادٍ وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا، وَفِي رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، أنَّ أَبَا بَكْرَةَ وَزِيَادًا وَنَافِعًا وَشِبْلَ بْنَ مَعْبَدٍ كَانُوا فِي غُرْفَةٍ، وَالْمُغِيرَةُ فِي أَسْفَلِ الدَّارِ، فَهَبَّتْ رِيحٌ فَفَتَحَتِ الْبَابَ وَرَفَعَتِ السِّتْرَ، فَإِذَا الْمُغِيرَةُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدِ ابْتُلِينَا، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ: فَشَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ وَنَافِعٌ وَشِبْلٌ، وَقَالَ زِيَادٌ: لَا أَدْرِي نَكَحَهَا أَمْ لَا، فَجَلَدَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا زِيَادًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَيْسَ قَدْ جَلَدْتُمُونِي؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَأَنَا أَشْهَدُ بِاللهِ لَقَدْ فَعَلَ، فَأَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَجْلِدَهُ أَيْضًا، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنْ كَانَتْ شَهَادَةُ أَبِي بَكْرَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ فَارْجُمْ صَاحِبَكَ، وَإِلَّا فَقَدْ جَلَدْتُمُوهُ، يَعْنِي لَا يُجْلَدُ ثَانِيًا بِإِعَادَتِهِ الْقَذْفَ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ، نافع بن حارث اور شبل بن معبد رضی اللہ عنہم نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے خلاف گواہی دی کہ انہوں نے ان کو داخل کرتے اور نکالتے ہوئے دیکھا ہے۔ زیاد چوتھے گواہ تھے۔ ان تینوں نے گواہی دے دی (اور ایک نے کہا:) میں نے اس کے نشان بھی دیکھے اس کی ران میں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب زیاد کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ بچہ اچھا ہے، یہ حق بات ہی کہے گا اور مجھ سے کچھ چھپائے گا بھی نہیں۔“ تو زیاد نے کہا: ”میں نے اس حالت میں تو نہیں دیکھا جو یہ بتا رہے ہیں، لیکن میں نے مشکوک حالت میں دیکھا ہے اور ان کے سانس پھولے ہوئے تھے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان تینوں کو حدِ قذف لگائی اور زیاد کو چھوڑ دیا۔
اور یہ روایت ان الفاظ سے موصولاً بھی آئی ہے کہ وہ چاروں ایک کمرے میں تھے اور زیاد گھر کے نچلے حصے میں۔ ہوا آئی، اس نے دروازہ کھول دیا اور پردہ اٹھ گیا تو کیا دیکھا کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ دو ٹانگوں کے درمیان میں ہیں، پھر پورا وہ قصہ ہے جو حدیث نمبر 17042 میں گزر چکا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 17043
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ الْمُغِيرَةِ قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ وَنَافِعٌ وَشِبْلُ بْنُ مَعْبَدٍ، فَلَمَّا دَعَا زِيَادًا قَالَ: رَأَيْتُ أَمْرًا مُنْكَرًا، قَالَ: فَكَبَّرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَدَعَا بِأَبِي بَكْرَةَ وَصَاحِبَيْهِ فَضَرَبَهُمْ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ، يَعْنِي بَعْدَمَا حَدَّهُ: وَاللهِ إِنِّي لَصَادِقٌ، وَهُوَ فَعَلَ مَا شُهِدَ بِهِ، فَهَمَّ عُمَرُ بِضَرْبِهِ فَقَالَ عَلِيٌّ: لَئِنْ ضَرَبْتَ هَذَا فَارْجُمْ ذَاكَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یہ حدیث پہلے نمبر ۱۷۰۴۳ کے تحت گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 17044