السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من أتى بهيمة باب: جانور سے بدفعلی کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17039
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ، أَوْجُهٍ عَنْ عِكْرِمَةَ، وَلَا أَرَى عَمْرَو بْنَ أَبِي عَمْرٍو يُقَصِّرُ عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، فِي الْحِفْظِ، كَيْفَ وَقَدْ تَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ جَمَاعَةٌ؟ وَعِكْرِمَةُ عِنْدَ أَكْثَرِ الْأَئِمَّةِ مِنَ الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کو ضعیف قرار دیتی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہ روایت عکرمہ سے کئی طرق سے روایت کی ہے، اور میں نہیں سمجھتا کہ عمرو بن ابی عمرو حافظے میں عاصم بن بہدلہ سے کم ہیں، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ایک جماعت نے ان کی روایت میں ان کی متابعت کی ہے؟ اور عکرمہ اکثر ائمہ کے نزدیک ثقہ اور ثبت راویوں میں سے ہیں، واللہ اعلم۔