کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مرتد کے مال کا بیان جب وہ حالتِ ارتداد میں طبعی موت مر جائے یا قتل کر دیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا عُبَيْدٌ هُوَ ابْنُ جَنِّادٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيَنِي عَمِّي، وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَآخُذَ مَالَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے چچا ملے، انہوں نے جھنڈا باندھ رکھا تھا، میں نے پوچھا: ”کہاں جا رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے نبی ﷺ نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے والد کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا مال قبضے میں لے لوں۔“
أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو سَعِيدٍ الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَسْتِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا حَاجًّا سَنَةَ أَرْبَعِمِائَةٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْبَكْرِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ أَبَاهُ، جَدَّ مُعَاوِيَةَ، إِلَى رَجُلٍ عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ، فَأَمَرَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ وَخَمَّسَ مَالَهُ " قَالَ أَصْحَابُنَا: ضَرْبُ الرَّقَبَةِ وَتَخْمِيسُ الْمَالِ لَا يَكُونُ إِلَّا عَلَى الْمُرْتَدِّ، فَكَأَنَّهُ اسْتَحَلَّهُ مَعَ عِلْمِهِ بِتَحْرِيمِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُمَا عَنْ مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ، فَقَالَا: لِبَيْتِ الْمَالِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِيَانِ أَنَّهُ فَيْءٌ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے والد (یعنی معاویہ کے دادا) کو ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے والد کی بیوی سے شب زفاف منائی تھی، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اس کی گردن مار دی اور اس کے مال کا خمس نکالا۔
ہمارے اصحاب کہتے ہیں: گردن مارنا اور مال کا خمس نکالنا صرف مرتد کے ساتھ ہوتا ہے، گویا اس نے اس کی حرمت جانتے ہوئے اسے حلال سمجھا، واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے مرتد کی میراث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: بیت المال کے لیے ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی مراد یہ ہے کہ وہ فے ہے۔
ہمارے اصحاب کہتے ہیں: گردن مارنا اور مال کا خمس نکالنا صرف مرتد کے ساتھ ہوتا ہے، گویا اس نے اس کی حرمت جانتے ہوئے اسے حلال سمجھا، واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے مرتد کی میراث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: بیت المال کے لیے ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی مراد یہ ہے کہ وہ فے ہے۔