❮
❯
حدیث نمبر: 16895
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى بَنِي نَاجِيَةَ، قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ فَوَجَدْنَاهُمْ عَلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ، قَالَ: فَقَالَ أَمِيرُنَا لِفِرْقَةٍ مِنْهُمْ: مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ ⦗٣٦٢⦘ قَوْمٌ كُنَّا نَصَارَى فَأَسْلَمْنَا فَثَبَتْنَا عَلَى إِسْلَامِنَا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِيَةِ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ قَوْمٌ كُنَّا نَصَارَى، يَعْنِي فَثَبَتْنَا عَلَى نَصْرَانِيَّتِنَا، قَالَ لِلثَّالِثَةِ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ قَوْمٌ كُنَّا نَصَارَى فَأَسْلَمْنَا فَرَجَعْنَا فَلَمْ نَرَ دِينًا أَفْضَلَ مِنْ دِينِنَا فَتَنَصَّرْنَا، فَقَالَ لَهُمْ: أَسْلِمُوا، فَأَبَوْا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِذَا مَسَحْتُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَشُدُّوا عَلَيْهِمْ، فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَوَا الذَّرَارِيَّ، فَجِيءَ بِالذَّرَارِيِّ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَجَاءَ مَسْقَلَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ فَاشْتَرَاهُمْ بِمِائَتَيْ أَلْفٍ، فَجَاءَ بِمِائَةِ أَلْفٍ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ، فَانْطَلَقَ مَسْقَلَةُ بِدَرَاهِمِهِ، وَعَمَدَ مَسْقَلَةُ إِلَيْهِمْ فَأَعْتَقَهُمْ، وَلَحِقَ بِمُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقِيلَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَلَا تَأْخُذُ الذُّرِّيَّةَ؟ قَالَ: لَا، فَلَمْ يَعْرِضْ لَهُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ قَاتَلَ مَنْ لَمْ يَزَلْ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنِ ارْتَدَّ، فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَبَى مِنْ بَنِي نَاجِيَةَ مَنْ لَمْ يَكُنِ ارْتَدَّ، وَقَدْ كَانَتِ الرِّدَّةُ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَمَّسَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، يَعْنِي الذَّرَارِيَّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابو طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس لشکر میں شامل تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ہم ان کے پاس پہنچے تو ہم نے ان کو تین گروہوں میں پایا، تو ہمارے امیر نے ایک گروہ سے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عیسائی تھے پھر ہم مسلمان ہو گئے اور اسی پر ثابت قدم ہیں۔ دوسرے گروہ سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ہم عیسائی تھے اور ابھی تک ہیں۔ تیسرے گروہ سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ہم عیسائی تھے، پھر مسلمان ہو گئے اور پھر دوبارہ عیسائیت، جو کہ ہمارا افضل دین ہے، کی طرف لوٹ آئے۔ تو ان کو کہا گیا کہ مسلمان ہو جاؤ۔ انہوں نے انکار کیا تو امیر نے اپنی فوج سے کہا: جب میں تین مرتبہ اپنے سر کو چھو لوں تو تم ان پر حملہ کر دینا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان کو قتل کر دیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ وہ انہیں لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے تو مسقلہ بن ہبیرہ آئے اور ان سب کو دو لاکھ درہم کے بدلے خرید لیا اور وہ ایک لاکھ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لینے سے انکار کر دیا، تو مسقلہ اپنے درہم لے کر چلا گیا اور اس نے ان کو آزاد کر دیا اور خود معاویہ رضی اللہ عنہ سے جا ملا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا آپ ان کی اولاد کو نہیں پکڑیں گے؟ فرمایا: نہیں، پھر وہ ان کے درپے نہ ہوئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو عیسائی تھے اور جو مرتد تھے ان سے قتال کیا اور ممکن ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بنو ناجیہ کی اس اولاد کو بھی قیدی بنایا ہو جو مرتد نہیں تھی۔ ارتداد تو عہدِ صدیقی میں تھا لیکن ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے ان سے کوئی چیز لی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المرتد / حدیث: 16895
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»