کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک (مرتد سے) تین مرتبہ توبہ کروائی جائے گی، پس اگر وہ دوبارہ مرتد ہو جائے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " يُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا} [النساء: ١٣٧].
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین مرتبہ توبہ کا موقع دیا جائے، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا﴾ [سورة النساء: 137]۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلَاثًا، فَإِنْ عَادَ قُتِلَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین مرتبہ توبہ کا موقع دیا جائے، اگر وہ پھر (کفر کی طرف) لوٹے تو اسے قتل کر دیا جائے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " يُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلَاثًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین مرتبہ توبہ کا موقع دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُمْ " كَانُوا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْبَحْرِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ فَرَّ إِلَى الْعَدُوِّ فَأَقَالَهُ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ فَرَّ الثَّانِيَةَ فَأُتِيَ بِهِ فَأَقَالَهُ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ فَرَّ الثَّالِثَةَ فَأُتِيَ بِهِ فَنَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا} [النساء: ١٣٧]، فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي إِسْنَادِ هَذِهِ الْآثَارِ ضَعْفٌ، وَالْآيَةُ وَارِدَةٌ فِيمَنْ ثَبَتَ عَلَى الْكُفْرِ وَقَدْ رُوِّينَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَتَابَ نَبْهَانَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَلْحَقُ ⦗٣٦١⦘ بِالْمُشْرِكِينَ، وَظَاهِرُ الْأَخْبَارِ الصَّحِيحَةِ فِيمَا يُحْقَنُ بِهِ الدَّمُ، يَشْهَدُ لِهَذَا الْمُرْسَلُ وَيُوَافِقُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں کہ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو مرتد ہو گیا تھا۔ اسے اسلام کی دعوت دی، وہ مسلمان ہو گیا، لیکن پھر مرتد ہو گیا۔ جب تین بار ایسا ہوا تو اس آیت سے دلیل لیتے ہوئے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 137] اسے قتل کر دیا۔
ان آثار کی سند میں ضعف ہے، اور یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو کفر پر قائم رہے۔ اور ہم نے مرسل سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نبہان سے چار مرتبہ توبہ کروائی، ہر بار وہ مشرکین سے جا ملتا تھا، اور خون کو محفوظ کرنے والی چیزوں کے بارے میں صحیح احادیث کا ظاہر اس مرسل کی تائید اور موافقت کرتا ہے، واللہ اعلم۔
ان آثار کی سند میں ضعف ہے، اور یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو کفر پر قائم رہے۔ اور ہم نے مرسل سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نبہان سے چار مرتبہ توبہ کروائی، ہر بار وہ مشرکین سے جا ملتا تھا، اور خون کو محفوظ کرنے والی چیزوں کے بارے میں صحیح احادیث کا ظاہر اس مرسل کی تائید اور موافقت کرتا ہے، واللہ اعلم۔