السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: من قال: يستتاب ثلاث مرات، فإن عاد قتل باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک (مرتد سے) تین مرتبہ توبہ کروائی جائے گی، پس اگر وہ دوبارہ مرتد ہو جائے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُمْ " كَانُوا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْبَحْرِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ فَرَّ إِلَى الْعَدُوِّ فَأَقَالَهُ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ فَرَّ الثَّانِيَةَ فَأُتِيَ بِهِ فَأَقَالَهُ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ فَرَّ الثَّالِثَةَ فَأُتِيَ بِهِ فَنَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا} [النساء: ١٣٧]، فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي إِسْنَادِ هَذِهِ الْآثَارِ ضَعْفٌ، وَالْآيَةُ وَارِدَةٌ فِيمَنْ ثَبَتَ عَلَى الْكُفْرِ وَقَدْ رُوِّينَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَتَابَ نَبْهَانَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَلْحَقُ ⦗٣٦١⦘ بِالْمُشْرِكِينَ، وَظَاهِرُ الْأَخْبَارِ الصَّحِيحَةِ فِيمَا يُحْقَنُ بِهِ الدَّمُ، يَشْهَدُ لِهَذَا الْمُرْسَلُ وَيُوَافِقُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں کہ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو مرتد ہو گیا تھا۔ اسے اسلام کی دعوت دی، وہ مسلمان ہو گیا، لیکن پھر مرتد ہو گیا۔ جب تین بار ایسا ہوا تو اس آیت سے دلیل لیتے ہوئے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 137] اسے قتل کر دیا۔
ان آثار کی سند میں ضعف ہے، اور یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو کفر پر قائم رہے۔ اور ہم نے مرسل سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نبہان سے چار مرتبہ توبہ کروائی، ہر بار وہ مشرکین سے جا ملتا تھا، اور خون کو محفوظ کرنے والی چیزوں کے بارے میں صحیح احادیث کا ظاہر اس مرسل کی تائید اور موافقت کرتا ہے، واللہ اعلم۔