کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جادوگر کی تکفیر اور اس کا قتل، اگر وہ ایسے کلمات سے جادو کرتا ہو جو صریح کفر ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، ح قَالَ: وَأَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوٍ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا عَوْفٌ، عَنْ خِلَاسٍ، وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَى عَرَّافًا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی جادوگر یا کاہن کے پاس آیا اور اس کی تصدیق کی تو اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أَنْبَأَ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، وَثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنَانِيُّ، قَالُوا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَنْ أَتَى سَاحِرًا أَوْ كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”جو کسی کاہن، جادوگر، یا غیب کی خبر دینے والے کے پاس آیا اور اس نے اس کی تصدیق کی تو اس نے شریعتِ محمدی ﷺ کے ساتھ کفر کیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أَنْبَأَ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح ⦗٢٣٤⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ بَجَالَةَ، يَقُولُ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنِ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَسَاحِرَةٍ، قَالَ: فَقَتَلْنَا ثَلَاثَ سَوَاحِرَ.
حافظ ثناء اللہ
بجالہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمال کو خط لکھا کہ ”جادو گر مرد ہو یا عورت اسے قتل کر دو۔“ کہتے ہیں: ہم نے تین جادو گروں کو قتل کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، رَضِيَ الله عَنْهُمَا، سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فَأَقَرَّتْ بِالسِّحْرِ وَأَخْرَجَتْهُ فَقَتَلَتْهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَغَضِبَ، فَأَتَاهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: جَارِيَتُهَا سَحَرَتْهَا، أَقَرَّتْ بِالسِّحْرِ وَأَخْرَجَتْهُ، قَالَ: فَكَفَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ غَضَبُهُ لِقَتْلِهَا إِيَّاهَا بِغَيْرِ أَمْرِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ تُقْتَلَ السُّحَّارُ، وَاللهُ أَعْلَمُ إِنْ كَانَ السِّحْرُ شِرْكًا، وَكَذَلِكَ أَمْرُ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے جادو کر دیا، اس نے اقرار بھی کر لیا اور جادو نکال بھی دیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جب یہ پتہ چلا تو وہ بہت غصہ ہوئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے اور کہنے لگے: عثمان! لونڈی نے جادو کر دیا تھا، پھر اس نے اقرار بھی کر لیا اور اپنا جادو نکال بھی دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ رک گئے۔ گویا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس وجہ سے غصہ تھے کہ ان کے حکم کے بغیر اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جادوگروں کے قتل کا حکم دیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ " إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ساحر کی حد تلوار ہے۔“
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ، أَنَّهُ قَتَلَ سَاحِرًا كَانَ عِنْدَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، ثُمَّ قَالَ: أَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ؟.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کے پاس ایک جادوگر کو قتل کیا، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 3]۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، كَانَ بِالْعِرَاقِ يَلْعَبُ بَيْنَ يَدَيْهِ سَاحِرٌ، وَكَانَ يَضْرِبُ رَأْسَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَصِيحُ بِهِ فَيَقُومُ خَارِجًا فَيَرْتَدُّ إِلَيْهِ رَأْسُهُ، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ يُحْيِي الْمَوْتَى. وَرَآهُ رَجُلٌ مِنْ صَالِحِ الْمُهَاجِرِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ اشْتَمَلَ عَلَى سَيْفِهِ، فَذَهَبَ يَلْعَبُ لَعِبَهُ ذَلِكَ، فَاخْتَرَطَ الرَّجُلُ سَيْفَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فَقَالَ: إِنْ كَانَ صَادِقًا فَلْيُحْيِ نَفْسَهُ، وَأَمَرَ بِهِ الْوَلِيدُ دِينَارًا صَاحِبَ السِّجْنِ، وَكَانَ رَجُلًا ⦗٢٣٥⦘ صَالِحًا فَسَجَنَهُ، فَأَعْجَبَهُ نَحْوُ الرَّجُلِ، فَقَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَهْرُبَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاخْرُجْ لَا يَسْأَلُنِي اللهُ عَنْكَ أَبَدًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ ایک دفعہ عراق گئے، دیکھا کہ جادوگر آپس میں کھیل رہے ہیں کہ وہ ایک آدمی کا سر کاٹتے، پھر اسے صحیح کر دیتے۔ لوگ کہنے لگے: ”«سُبْحَانَ اللّٰهِ»! یہ مردے کو زندہ کر رہے ہیں۔“ وہاں ایک صالح مہاجر آدمی بھی تھا، وہ چلا گیا اور دوسرے دن جب جادوگر اپنا کرتب دکھانے لگا تو یہ تلوار لے آیا اور اس جادوگر کی گردن کاٹ دی اور کہا: ”اگر یہ اتنا سچا تھا تو اب اپنے آپ کو زندہ کر کے دکھائے۔“ اس آدمی کو قید کر دیا گیا تو سیدنا ولید رضی اللہ عنہ نے قید کے محافظ کو دینار دیے اور اسے بھگانے کا کہا اور (اس سے) کہا: ”بھاگ جا، اللہ تعالیٰ مجھ سے تیرے بارے میں کبھی سوال نہیں کرے گا۔“