السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: تكفير الساحر وقتله إن كان ما يسحر به كلام كفر صريح باب: جادوگر کی تکفیر اور اس کا قتل، اگر وہ ایسے کلمات سے جادو کرتا ہو جو صریح کفر ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، رَضِيَ الله عَنْهُمَا، سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فَأَقَرَّتْ بِالسِّحْرِ وَأَخْرَجَتْهُ فَقَتَلَتْهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَغَضِبَ، فَأَتَاهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: جَارِيَتُهَا سَحَرَتْهَا، أَقَرَّتْ بِالسِّحْرِ وَأَخْرَجَتْهُ، قَالَ: فَكَفَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ غَضَبُهُ لِقَتْلِهَا إِيَّاهَا بِغَيْرِ أَمْرِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ تُقْتَلَ السُّحَّارُ، وَاللهُ أَعْلَمُ إِنْ كَانَ السِّحْرُ شِرْكًا، وَكَذَلِكَ أَمْرُ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے جادو کر دیا، اس نے اقرار بھی کر لیا اور جادو نکال بھی دیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جب یہ پتہ چلا تو وہ بہت غصہ ہوئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے اور کہنے لگے: عثمان! لونڈی نے جادو کر دیا تھا، پھر اس نے اقرار بھی کر لیا اور اپنا جادو نکال بھی دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ رک گئے۔ گویا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس وجہ سے غصہ تھے کہ ان کے حکم کے بغیر اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جادوگروں کے قتل کا حکم دیا تھا۔