کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جادوگر کی توبہ قبول ہونے اور اس کی توبہ کے سبب اس کی جان بچ جانے کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعَيْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہیں۔ جب انہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہہ دیا تو انہوں نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16503
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرَّةَ، سَمِعَ أَبَا عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَبِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَكَفَاكَ بِسَحَرَةِ فِرْعَوْنَ وَقِصَّتِهِمْ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَبُولِ تَوْبَةِ السَّاحِرِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں کو رات کے وقت کھولتے ہیں کہ دن کا بھولا توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ کھولتے ہیں کہ رات کا بھولا توبہ کر لے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو گا۔“
اور فرعون کے جادوگروں کی توبہ جو قرآن میں تفصیلاً ذکر ہے، جادوگر کی توبہ کے قبول کے لیے کافی دلیل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16504
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، مِنْ أَصْلِهِ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ دُومَةِ الْجَنْدَلِ، جَاءَتْ تَبْتَغِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْتِهِ حَدَاثَةَ ذَلِكَ تَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ دَخَلَتْ فِيهِ مِنْ أَمْرِ السِّحْرِ وَلَمْ تَعْمَلْ بِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِعُرْوَةَ: يَا ابْنَ أُخْتِي فَرَأَيْتُهَا تَبْكِي حِينَ لَمْ تَجِدْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ تَبْكِي حَتَّى أَنِّي لَأَرْحَمُهَا، تَقُولُ: إِنِّي لَأَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، كَانَ لِي زَوْجٌ فَغَابَ عَنِّي، فَدَخَلْتُ عَلَى عَجُوزٍ فَشَكَوْتُ إِلَيْهَا ذَلِكَ، فَقَالَتْ: إِنْ فَعَلْتِ مَا آمُرُكِ بِهِ فَأَجْعَلْهُ يَأْتِيكِ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ جَاءَتْنِي بِكَلْبَيْنِ أَسْوَدَيْنِ فَرَكِبَتْ أَحَدَهُمَا وَرَكِبْتُ الْآخَرَ، فَلَمْ يَكُنْ كَثِيرٌ حَتَّى وَقَفْنَا بِبَابِلَ، فَإِذَا بِرَجُلَيْنِ مُعَلَّقَيْنِ بِأَرْجُلِهِمَا، فَقَالَا: مَا جَاءَ بِكِ؟ فَقُلْتُ: أَتَعَلَّمُ السِّحْرَ، فَقَالَا: إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ، فَلَا تَكْفُرِي، وَارْجِعِي، ⦗٢٣٦⦘ فَأَبَيْتُ وَقُلْتُ: لَا، قَالَا: فَاذْهَبِي إِلَى ذَلِكَ التَّنُّورِ فَبُولِي فِيهِ، فَذَهَبْتُ فَفَزِعْتُ وَلَمْ تَفْعَلْ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: فَعَلْتِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَا: هَلْ رَأَيْتِ شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَمْ أَرَ شَيْئًا، فَقَالَا: لَمْ تَفْعَلِي، ارْجِعِي إِلَى بِلَادِكِ، وَلَا تَكْفُرِي. فَأَرِبْتُ وَأَبَيْتُ، فَقَالَا: اذْهَبِي إِلَى ذَلِكَ التَّنُّورِ فَبُولِي فِيهِ، ثُمَّ ائْتِي، فَذَهَبْتُ فَاقْشَعَرَّ جِلْدِي وَخِفْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِمَا فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، فَقَالَا: فَمَا رَأَيْتِ؟ فَقُلْتُ: لَمْ أَرَ شَيْئًا، فَقَالَا: كَذَبْتِ، لَمْ تَفْعَلِي، فَارْجِعِي إِلَى بِلَادِكِ وَلَا تَكْفُرِي، فَإِنَّكِ عَلَى رَأْسِ أَمْرِكِ. فَأَرِبْتُ وَأَبَيْتُ، فَقَالَا: اذْهَبِي إِلَى ذَلِكَ التَّنُّورِ فَبُولِي فِيهِ، فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَبُلْتُ فِيهِ فَرَأَيْتُ فَارِسًا مُقَنَّعًا بِحَدِيدٍ قَدْ خَرَجَ مِنِّي، حَتَّى ذَهَبَ فِي السَّمَاءِ، وَغَابَ عَنِّي حَتَّى مَا أُرَاهُ، فَجِئْتُهُمَا فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، فَقَالَا: فَمَا رَأَيْتِ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْتُ فَارِسًا مُقَنَّعًا خَرَجَ مِنِّي فَذَهَبَ فِي السَّمَاءِ حَتَّى مَا أُرَاهُ، فَقَالَا: صَدَقْتِ، ذَلِكَ إِيمَانُكِ خَرَجَ مِنْكِ، اذْهَبِي فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ: وَاللهِ مَا أَعْلَمُ شَيْئًا، وَمَا قَالَ لِي شَيْئًا، قَالَتْ: بَلَى، إِنْ تُرِيدِي شَيْئًا إِلَّا كَانَ، خُذِي هَذَا الْقَمْحَ فَابْذُرِي، فَبَذَرْتُ، فَقُلْتُ: اطْلُعِي، فَطَلَعَتْ، فَقُلْتُ: أَحْقِلِي، فَأَحْقَلَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: أَفْرِكِي، فَأَفْرَكَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: أَيْبِسِي، فَأَيْبَسَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: اطْحَنِي، فَأَطْحَنَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: اخْبِزِي، فَأَخْبَزْتُ. فَلَمَّا رَأَيْتُ أَنِّي لَا أُرِيدُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ سُقِطَ فِي يَدَي، وَنَدِمْتُُ وَاللهِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا فَعَلْتُ شَيْئًا قَطُّ وَلَا أَفْعَلُهُ أَبَدًا. فَسَأَلَتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ مُتَوَافِرُونَ فَمَا دَرَوْا مَا يَقُولُونَ لَهَا، وَكُلُّهُمْ هَابَ وَخَافَ أَنْ يُفْتِيَهَا بِمَا لَا يَعْلَمُ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ قَالَ لَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَوْ بَعْضُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ: لَوْ كَانَ أَبَوَاكَ حَيَّيْنِ أَوْ أَحَدُهُمَا. قَالَ هِشَامٌ: فَلَوْ جَاءَتْنَا الْيَوْمَ أَفْتَيْنَاهَا بِالضَّمَانِ. قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: وَكَانَ هِشَامٌ يَقُولُ: إِنَّهُمْ كَانُوا أَهْلَ وَرَعٍ وَخَشْيَةٍ مِنَ اللهِ، وَبُعَدَاءَ مِنَ التَّكَلُّفِ وَالْجُرْأَةِ عَلَى اللهِ، ثُمَّ يَقُول هِشَامٌ: وَلَكِنَّهَا لَوْ جَاءَتِ الْيَوْمَ مِثْلُهَا لَوَجَدَتْ تُوكِي أَهْلَ حُمْقٍ وَتَكَلُّفٍ بِغَيْرِ عَلِمٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دُومۃ الجندل کی ایک عورت نبی ﷺ کی وفات کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ ﷺ کو ڈھونڈتی ہوئی آئی تاکہ آپ سے جادو کے ایک معاملے کے بارے میں سوال کرے جس میں وہ پڑ گئی تھی لیکن اس پر عمل نہیں کیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: اے بھانجے! میں نے دیکھا کہ جب اسے رسول اللہ ﷺ نہ ملے تو وہ رو پڑی، وہ اتنا روئی کہ مجھے اس پر بڑا ترس آیا، وہ کہہ رہی تھی: مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں ہلاک نہ ہو گئی ہوں، میرا خاوند مجھ سے غائب ہو گیا تھا، میں ایک بڑھیا کے پاس گئی اور اس سے اس کی شکایت کی تو وہ کہنے لگی: اگر تو وہ کرے جو میں تجھے کہوں تو میں اسے تیرے پاس لے آؤں گی۔ جب رات ہوئی تو وہ میرے پاس دو سیاہ کتے لے آئی، ایک پر وہ سوار ہو گئی اور ایک پر میں۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم بابل جا پہنچے تو میں نے دیکھا کہ دو شخص اپنے پاؤں کے بل الٹے لٹکے ہوئے ہیں۔ وہ کہنے لگے: کیوں آئی ہو؟ میں نے کہا: جادو سیکھنے، تو انھوں نے کہا: ﴿إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ﴾ [سورة البقرة: 102] ”ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، پس تم کفر نہ کرو“ اور کہنے لگے: لوٹ جا۔ میں نے انکار کر دیا تو انھوں نے کہا: ”اس تنور کے پاس جاؤ اور اس میں پیشاب کرو“، میں گئی لیکن گھبراہٹ کی وجہ سے نہ کر سکی اور ویسے ہی آ گئی۔ پوچھا: ”کیا پیشاب کر آئی ہو؟“ کہا: ہاں! پوچھا: ”کیا کچھ دیکھا ہے؟“ کہا: نہیں، تو وہ کہنے لگے: ”پھر تم نے کچھ کیا ہی نہیں، اپنے وطن واپس چلی جا اور کفر نہ کر“۔ لیکن میں اڑی رہی اور انکار کر دیا، پھر بولے: ”جاؤ اس تنور میں پیشاب کر کے آؤ“، میں گئی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں ڈر گئی، پھر واپس آ کر کہا: میں نے کر لیا ہے، انھوں نے پوچھا: ”کیا دیکھا؟“ میں نے کہا: کچھ نہیں دیکھا، تو کہنے لگے: ”تو نے جھوٹ بولا، تو نے کیا ہی نہیں، اپنے وطن واپس چلی جا اور کفر نہ کر، ابھی تو تیرا معاملہ شروع میں ہے“، میں اڑی رہی اور انکار کر دیا تو بولے: ”جاؤ اس تنور میں پیشاب کرو“، میں گئی اور کر دیا تو میں نے دیکھا کہ میرے اندر سے لوہے کا نقاب پہنے ایک گھڑ سوار نکلا اور آسمان میں چلا گیا یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا، میں واپس آئی اور سارا واقعہ ان دونوں کو سنایا تو وہ کہنے لگے: ”تو نے سچ کہا، یہ تیرا ایمان تھا جو تجھ سے نکل گیا، جا“۔ میں نے اس (بڑھیا) عورت سے کہا کہ واللہ! مجھے تو کچھ معلوم نہیں ہوا اور نہ انھوں نے مجھے کچھ بتایا، تو وہ کہنے لگی: کیوں نہیں، تو جس چیز کا بھی ارادہ کرے گی وہ ہو جائے گی، یہ گندم لے اور اسے بو دے۔ میں نے بو دی اور کہا: اُگ جا، تو وہ اُگ آئی، میں نے کہا: بالیاں نکال، تو بالیاں نکل آئیں، پھر کہا: پک جا، تو پک گئی، پھر کہا: سوکھ جا، تو سوکھ گئی، پھر کہا: پس جا، تو پس گئی، پھر کہا: روٹی بن جا، تو روٹی بن گئی۔ جب میں نے دیکھا کہ میں جس چیز کا بھی ارادہ کرتی ہوں وہ ہو جاتی ہے تو میں سخت پشیمان ہوئی۔ واللہ! اے ام المؤمنین! میں نادم ہوں، میں نے اس سے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا اور نہ آئندہ کروں گی۔ پھر اس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، جو اس وقت بڑی تعداد میں موجود تھے، اس بارے میں سوال کیا لیکن وہ نہ سمجھ سکے کہ اسے کیا کہیں، اور ہر ایک بغیر علم کے فتویٰ دینے سے ڈرا۔ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یا ان کے پاس موجود کسی شخص نے یہ بات کہی کہ اگر تیرے والدین یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہوتا۔ ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر وہ آج ہمارے پاس آتی تو ہم اسے ضمان کا فتویٰ دیتے، لیکن چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت زیادہ محتاط اور اللہ سے ڈرنے والے تھے اس لیے خاموش رہے۔ پھر ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر آج ایسا کوئی واقعہ ہو جائے تو کئی احمق اور بیوقوف کھڑے ہو جائیں جو بغیر علم کے فتویٰ دیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16505
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»