کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جادوگر کے شرعی حکم کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جادو کی حقیقت ہے۔
حدیث نمبر: 16494
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ، وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ} [البقرة: 102] إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ، وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمُ} [البقرة: 102] الْآيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ، وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ﴾ ”اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت میں پڑھا کرتے تھے، اور سلیمان (علیہ السلام) نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے کفر کیا، وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔“ [سورة البقرة: 102]
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: ﴿وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ، وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمُ﴾ ”اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دیتی تھی اور انہیں نفع نہیں دیتی تھی۔“ (الآیۃ) [سورة البقرة: 102]
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: ﴿وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ، وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمُ﴾ ”اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دیتی تھی اور انہیں نفع نہیں دیتی تھی۔“ (الآیۃ) [سورة البقرة: 102]
حدیث نمبر: 16494
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّاذْيَاخِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طُبَّ حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ صَنَعَ الشَّيْءَ وَمَا صَنَعَهُ، وَإِنَّهُ دَعَا رَبَّهُ ثُمَّ قَالَ: " أَشَعَرْتِ أَنَّ اللهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ؟ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " جَاءَنِي رَجُلَانِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ الْآخَرُ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِيمَا ذَا؟ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ، قَالَ: فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: هُوَ فِي ذَرْوَانَ، وَذَرْوَانُ بِئْرٌ فِي بَنِي زُرَيْقٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَأَتَاهُا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ: " وَاللهِ لَكَأَنَّ مَاءَهُمَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ". ⦗٢٣٣⦘ قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَّا أَخْرَجْتَهُ؟ قَالَ: " أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ پر جادو کر دیا گیا، جس کا اثر یہ ہوا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ میں نے یہ کام کیا ہے اور وہ کیا نہ ہوتا۔ آپ نے اپنے رب سے دعا کی، پھر فرمایا: ”کیا تجھے پتا ہے کہ جو میں نے اللہ سے پوچھا تھا، اللہ نے مجھے بتا دیا؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ کیا ہے یا رسول اللہ! فرمایا: ”میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سر اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا۔ ایک کہنے لگا: اسے کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے کہا: جادو ہوا ہے۔ پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ کہا: لبید بن اعصم یہودی نے۔ پوچھا وہ کس میں ہے؟ کہا: ایک کنگھی ہے اور اس میں بال ہے اور ایک گڈا ہے جس میں سوئیاں چبھی ہوئی ہیں۔ پوچھا: وہ کہاں ہے؟ کہا: بنو زریق کے ذروان نامی کنویں میں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے گئے، پھر آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”واللہ! اس کا پانی ایسے تھا جیسے مہندی کا رنگ ہو اور اس کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے شیطان کے سر ہوں۔“ میں نے کہا: آپ نے اسے نکالا کیوں نہیں؟ تو جواب دیا: ”اللہ نے مجھے اس سے شفاء دے دی تو میں نے ناپسند جانا کہ لوگوں کو اس کا کچھ شر پہنچے۔“
حدیث نمبر: 16495
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: ثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَصَبَّحَ بِتَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَدْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ مَكِّيٍّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اصْطَبَحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ ". قَالَ هَاشِمٌ: لَا أَعْلَمُ أَنَّ عَامِرًا ذَكَرَ إِلَّا مِنْ عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هَاشِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ہر روز صبح کے وقت عجوہ کھجور کھائے، اس دن اسے نہ تو کوئی زہر اور نہ ہی کوئی جادو نقصان پہنچا سکتا ہے۔“
اور دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں۔۔۔“
اور دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں۔۔۔“