❮
❯
حدیث نمبر: 16502
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، كَانَ بِالْعِرَاقِ يَلْعَبُ بَيْنَ يَدَيْهِ سَاحِرٌ، وَكَانَ يَضْرِبُ رَأْسَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَصِيحُ بِهِ فَيَقُومُ خَارِجًا فَيَرْتَدُّ إِلَيْهِ رَأْسُهُ، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ يُحْيِي الْمَوْتَى. وَرَآهُ رَجُلٌ مِنْ صَالِحِ الْمُهَاجِرِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ اشْتَمَلَ عَلَى سَيْفِهِ، فَذَهَبَ يَلْعَبُ لَعِبَهُ ذَلِكَ، فَاخْتَرَطَ الرَّجُلُ سَيْفَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فَقَالَ: إِنْ كَانَ صَادِقًا فَلْيُحْيِ نَفْسَهُ، وَأَمَرَ بِهِ الْوَلِيدُ دِينَارًا صَاحِبَ السِّجْنِ، وَكَانَ رَجُلًا ⦗٢٣٥⦘ صَالِحًا فَسَجَنَهُ، فَأَعْجَبَهُ نَحْوُ الرَّجُلِ، فَقَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَهْرُبَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاخْرُجْ لَا يَسْأَلُنِي اللهُ عَنْكَ أَبَدًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ ایک دفعہ عراق گئے، دیکھا کہ جادوگر آپس میں کھیل رہے ہیں کہ وہ ایک آدمی کا سر کاٹتے، پھر اسے صحیح کر دیتے۔ لوگ کہنے لگے: ”«سُبْحَانَ اللّٰهِ»! یہ مردے کو زندہ کر رہے ہیں۔“ وہاں ایک صالح مہاجر آدمی بھی تھا، وہ چلا گیا اور دوسرے دن جب جادوگر اپنا کرتب دکھانے لگا تو یہ تلوار لے آیا اور اس جادوگر کی گردن کاٹ دی اور کہا: ”اگر یہ اتنا سچا تھا تو اب اپنے آپ کو زندہ کر کے دکھائے۔“ سیدنا ولید رضی اللہ عنہ نے اسے قید خانے کے نگران دینار کے حوالے کرنے کا حکم دیا، وہ ایک نیک آدمی تھا، اس نے اسے قید کر دیا، لیکن اسے اس آدمی کا طرزِ عمل پسند آیا تو اس نے کہا: ”کیا تم بھاگ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: ”نکل جاؤ، اللہ تعالیٰ مجھ سے تمہارے بارے میں کبھی سوال نہیں کرے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16502
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»