کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کسی جرم (چوٹ وغیرہ) کی وجہ سے عقل کے زائل ہو جانے کی دیت کا بیان۔
فِيمَا رَوَى أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَرْفُوعًا: وَفِي الْعَقْلِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَقَدْ ذَكَرْنَا إِسْنَادَنَا فِيهِ وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ قَضَى فِي الْعَقْلِ بِالدِّيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
اس روایت میں جسے ابو یحییٰ ساجی رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ: ”اور عقل (زائل کرنے) میں سو اونٹ (دیت) ہیں۔“
اور ہم اس بارے میں اپنی سند ذکر کر چکے ہیں، اور ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسی روایت پہنچی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے عقل (زائل کرنے) میں پوری دیت کا فیصلہ فرمایا۔
اور ہم اس بارے میں اپنی سند ذکر کر چکے ہیں، اور ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسی روایت پہنچی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے عقل (زائل کرنے) میں پوری دیت کا فیصلہ فرمایا۔
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا، قَبْلَ فِتْنَةِ ابْنِ الْأَشْعَثِ فَنَعَتَ نَعْتَهُ، فَقَالُوا: ذَاكَ أَبُو الْمُهَلَّبِ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: رُمِيَ رَجُلٌ بِحَجَرٍ فِي رَأْسِهِ فَذَهَبَ سَمْعُهُ، وَلِسَانُهُ، وَعَقْلُهُ وَذَكَرُهُ فَلَمْ يَقْرَبِ النِّسَاءَ، فَقَضَى فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْبَعِ دِيَاتٍ،.
حافظ ثناء اللہ
ابومہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے سر میں پتھر مارا، جس سے اس کی قوتِ سماعت، قوتِ گویائی، عقل اور قوتِ مردانہ چلی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے چار دیتوں کا حکم دیا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ ضُرِبَ، فَذَهَبَ سَمْعُهُ وَبَصَرُهُ وَكَلَامُهُ، قَالَ: لَهُ ثَلَاثُ دِيَاتٍ.
حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس کی چوٹ کی وجہ سے قوتِ سماعت، بصارت اور گویائی چلی جائے کہ اس میں تین دیتیں ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: فِي الرَّجُلِ يُضْرَبُ حَتَّى يَذْهَبَ عَقْلُهُ الدِّيَةُ كَامِلَةً وَرَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زَيْدٍ، قَالَ: فِي الْعَقْلِ الدِّيَةُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس کی چوٹ کی وجہ سے عقل چلی جائے، اس میں مکمل دیت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، يَقُولُ: مَضَتِ السُّنَّةُ أَشْيَاءَ مِنَ الْإِنْسَانِ: فِي نَفْسِهِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَقْلِ إِذَا ذَهَبَ الدِّيَةُ وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنِ الْحَسَنِ وَمُجَاهِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سنت چلی آ رہی ہے کہ انسان کی جان (لینے) میں دیت ہے اور عقل جب زائل ہو جائے تو اس میں بھی دیت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، فَزَّعَ رَجُلًا فَذَهَبَ عَقْلُهُ، قَالَ: لَوْ أَدْرَكَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَضَمَّنَهُ الدِّيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کو اتنا ڈرایا جائے کہ اس کی عقل ہی زائل ہو جائے تو انہوں نے فرمایا: اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسے بندے کو پا لیتے تو اس سے ضرور دیت لیتے۔