السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ذهاب العقل من الجناية باب: کسی جرم (چوٹ وغیرہ) کی وجہ سے عقل کے زائل ہو جانے کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 16228
فِيمَا رَوَى أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَرْفُوعًا: وَفِي الْعَقْلِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَقَدْ ذَكَرْنَا إِسْنَادَنَا فِيهِ وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ قَضَى فِي الْعَقْلِ بِالدِّيَةِ.حافظ ثناء اللہ
اس روایت میں جسے ابو یحییٰ ساجی رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ: ”اور عقل (زائل کرنے) میں سو اونٹ (دیت) ہیں۔“
اور ہم اس بارے میں اپنی سند ذکر کر چکے ہیں، اور ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسی روایت پہنچی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے عقل (زائل کرنے) میں پوری دیت کا فیصلہ فرمایا۔
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا، قَبْلَ فِتْنَةِ ابْنِ الْأَشْعَثِ فَنَعَتَ نَعْتَهُ، فَقَالُوا: ذَاكَ أَبُو الْمُهَلَّبِ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: رُمِيَ رَجُلٌ بِحَجَرٍ فِي رَأْسِهِ فَذَهَبَ سَمْعُهُ، وَلِسَانُهُ، وَعَقْلُهُ وَذَكَرُهُ فَلَمْ يَقْرَبِ النِّسَاءَ، فَقَضَى فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْبَعِ دِيَاتٍ،.حافظ ثناء اللہ
ابومہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے سر میں پتھر مارا، جس سے اس کی قوتِ سماعت، قوتِ گویائی، عقل اور قوتِ مردانہ چلی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ربع دیت کا حکم دیا۔