کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: گزشتہ روایات کے علاوہ اس سلسلے میں سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے مروی روایات کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي لَخَائِفٌ أَنْ يَأْتِيَ مِنْ بَعْدِي مَنْ يُهْلِكُ دِيَةَ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ، فَلَأَقُولَنَّ فِيهَا قَوْلًا: عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةُ بَعِيرٍ وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَا عَشَرَ دِرْهَمًا.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا شخص آئے جو آدمی کی دیت کو ہلاک کر دے، اس بارے میں میں ایک بات کہتا ہوں کہ اونٹ والے پر ۱۰۰ اونٹ، سونے والے پر ۱۰۰۰ دینار اور چاندی والے کے ذمہ ۱۲۰۰۰ درہم ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16184
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ⦗١٤٠⦘ وَابْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَوَّمَ الدِّيَةَ أَلْفَ دِينَارٍ أَوِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ اور ابن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیت ١٠٠٠ دینار یا ١٢٠٠٠ درہم مقرر فرمائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16185
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بَلَغَنَا، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ فَرَضَ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ فِي الدِّيَةِ، وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر 1000 دینار اور چاندی والوں پر 10000 درہم مقرر فرمائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16186
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَضَ الدِّيَةَ عَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ، اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ مُحَمَّدٌ: قَدْ صَدَقَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَضَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَلَكِنَّهُ فَرَضَهَا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَزْنَ سِتَّةٍ،.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بات ہمیں ابوحنیفہ نے ہیثم سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کی، اور اہلِ مدینہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے چاندی والوں پر 12000 درہم مقرر کیے۔ محمد کہتے ہیں کہ اہل مدینہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں سچ کہا ہے کہ انہوں نے دیت 12000 درہم مقرر کی، لیکن انہوں نے بارہ ہزار درہم چھ کے وزن کے مقرر کیے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16187
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
قَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَتِ الدِّيَةُ الْإِبِلِ، فَجُعِلَتِ الْإِبِلُ الصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ كُلُّ بَعِيرٍ مِائَةً وَعِشْرِينَ دِرْهَمًا وَزْنَ سِتَّةٍ، فَذَلِكَ عَشَرَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَ: وَقِيلَ لِشَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَانَقَ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ، فَضَرَبَهُ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ شَرِيكٌ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: عَانَقَ رَجُلٌ مِنَّا رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ فَضَرَبَهُ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا فَسَلَتَ وَجْهَهُ حَتَّى وَقَعَ ذَلِكَ عَلَى حَاجِبَيْهِ وَأَنْفِهِ وَلِحْيَتِهِ وَصَدْرِهِ، فَقَضَى فِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بالدية اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَكَانَتِ الدَّرَاهِمُ يَوْمَئِذٍ وَزْنَ سِتَّةٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: رَوَى عَطَاءٌ وَمَكْحُولٌ، وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ وَعَدَدٌ مِنَ الْحِجَازِيِّينَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَضَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَلَمْ أَعْلَمْ بِالْحِجَازِ أَحَدًا خَالَفَ فِيهِ عَنْهُ بِالْحِجَازِ، وَلَا عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُما وَمِمَّنْ قَالَ: الدِّيَةُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَلَقَدْ رَوَاهُ عِكْرِمَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى بِالدِّيَةِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ: أَفَتَقُولُ: إِنَّ الدِّيَةَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَزْنَ سِتَّةٍ؟ فَقَالَ: لَا فَقُلْتُ: فَمِنْ أَيْنَ زَعَمْتَ أَنَّكَ عَنْ عُمَرَ قَبِلْتَهَا، وَأَنَّ عُمَرَ قَضَى فِيهَا بِشَيْءٍ لَا تَقْضِي بِهِ ⦗١٤١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَكَذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَحَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَدْ رُوِّينَاهُ مَوْصُولًا، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمَعَهُ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”دیت تمام اونٹوں میں، چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے، فی اونٹ 120 درہم مقرر کی گئی ہے، جو چھ کے وزن کے برابر ہیں اور یہ 10,000 درہم بنتے ہیں۔“ شریک بن عبداللہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ ایک مسلمان آدمی دشمن کے ایک آدمی سے لپٹ گیا اور اسے وار کیا تو وہ کسی مسلمان کو لگ گیا، تو شریک رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم میں سے ایک آدمی دشمن کے ایک آدمی سے لپٹ گیا اور اسے وار کیا تو وہ ہم میں سے ایک آدمی کو لگا اور اس کا چہرہ چھیل کر اتار دیا یہاں تک کہ وہ اس کی بھنوؤں، ناک، داڑھی اور سینے پر آ گرا، اس صورت میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جو فیصلہ فرمایا وہ 12,000 درہموں کا تھا اور درہم اس وقت چھ کے وزن کا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بہت سارے حجازی مثلاً عطاء، مکحول، عمرو بن شعیب رحمہم اللہ وغیرہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دیت 12,000 درہم ہی نقل کی ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ اہل حجاز میں سے کسی نے اس کی مخالفت بھی کی ہو اور نہ ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس میں کسی کی مخالفت معلوم ہے، اور جو دیت 12,000 درہم کہتے ہیں ان میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی قابلِ ذکر ہیں اور عکرمہ رحمہ اللہ نے نبی ﷺ سے ایک دیت کا فیصلہ ”12,000 درہم“ ہی روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن حسن رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ دیت 12,000 درہم ہے، جو چھ کے وزن کے برابر ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہاں سے یہ قبول کر لیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا ہے لیکن آپ کیوں نہیں کرتے؟ شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقطع ہے اور اسی طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی، اور حدیث عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ جسے ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موصولاً بیان کیا ہے اور اسی کے ساتھ حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16188
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي كَتَبَهُ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ عَلَى نَجْرَانَ، وَكَانَ الْكِتَابُ عِنْدَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ: " هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ} [المائدة: ١] " فَكَتَبَ الْآيَاتِ حَتَّى بَلَغَ {إِنَّ اللهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ} [آل عمران: ١٩٩]، ثُمَّ كَتَبَ: " هَذَا كِتَابُ الْجِرَاحِ، فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِيَ جَدْعُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَهَذَا الَّذِي قَرَأْتُ فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کا وہ خط پڑھا جو آپ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو نجران جاتے ہوئے دیا تھا اور وہ خط ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ کے پاس تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں لکھا تھا: ”یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے“ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾ [سورة المائدة: 1] آپ ﷺ نے چند آیات لکھیں یہاں تک کہ ﴿إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [سورة آل عمران: 199] تک پہنچے، پھر فرمایا: ”یہ زخموں کے بارے میں کتاب ہے، قتل کے بدلے ۱۰۰ اونٹ ہیں۔ ایک ہاتھ کے بدلے ۵۰ اونٹ، ٹانگ کے بدلے ۵۰ اونٹ، ناک کو جب جڑ سے کاٹ دیا جائے تو اس میں ۱۰۰ اونٹ ہیں۔ آنکھ میں ۵۰ اونٹ اور ہر انگلی کے بدلے ۱۰ اونٹ ہیں اور سر کے گہرے زخم میں ثلث دیتِ قتل سے ہے اور وہ سر کا زخم جس میں ہڈی کے ریزے ہوں اس میں ۱۵ اونٹ ہیں۔ پیٹ میں ثلث دیتِ قتل ہے۔ عام زخم میں اور دانت میں پانچ اونٹ ہیں۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ خط میں نے اسی طرح ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ کے پاس پڑھا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16189
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»
وَأَخْبَرَ نَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ ⦗١٤٢⦘ أَخْبَرَهُ عَنِ الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْأُذُنَيْنِ وَلَا الْمُنَقِّلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16190
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكَتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ، وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَفِيهِ: " وَإِنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنَ الْأَصَابِعِ مِنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اہلِ یمن کی طرف ایک خط لکھا جس میں فرائض، سنتیں اور دیتیں تھیں اور اسے عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجا، تو وہ اہلِ یمن پر پڑھا گیا، اور یہ اس کا نسخہ ہے۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی ہے: ”جان میں دیت 100 اونٹ ہے، ناک جب جڑ سے کاٹ دی جائے تو اس میں دیت ہے، زبان میں دیت ہے، دونوں ہونٹوں میں دیت ہے، دونوں خصیوں میں دیت ہے، عضوِ تناسل میں دیت ہے، ریڑھ کی ہڈی میں دیت ہے، دونوں آنکھوں میں دیت ہے، ایک پاؤں میں نصف دیت ہے، سر کے گہرے زخم (مأمومہ) میں تہائی دیت ہے، پیٹ کے زخم (جائفہ) میں تہائی دیت ہے، منقلہ (جس زخم سے ہڈی سرک جائے) میں 15 اونٹ ہیں، ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی میں 10 اونٹ ہیں، دانت میں 5 اونٹ ہیں اور موضحہ (ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم) میں 5 اونٹ ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16191
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»