السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما روي فيه عن عمر، وعثمان رضي الله عنهما سوى ما مضى باب: گزشتہ روایات کے علاوہ اس سلسلے میں سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے مروی روایات کا بیان۔
قَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَتِ الدِّيَةُ الْإِبِلِ، فَجُعِلَتِ الْإِبِلُ الصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ كُلُّ بَعِيرٍ مِائَةً وَعِشْرِينَ دِرْهَمًا وَزْنَ سِتَّةٍ، فَذَلِكَ عَشَرَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَ: وَقِيلَ لِشَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَانَقَ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ، فَضَرَبَهُ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ شَرِيكٌ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: عَانَقَ رَجُلٌ مِنَّا رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ فَضَرَبَهُ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا فَسَلَتَ وَجْهَهُ حَتَّى وَقَعَ ذَلِكَ عَلَى حَاجِبَيْهِ وَأَنْفِهِ وَلِحْيَتِهِ وَصَدْرِهِ، فَقَضَى فِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بالدية اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَكَانَتِ الدَّرَاهِمُ يَوْمَئِذٍ وَزْنَ سِتَّةٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: رَوَى عَطَاءٌ وَمَكْحُولٌ، وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ وَعَدَدٌ مِنَ الْحِجَازِيِّينَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَضَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَلَمْ أَعْلَمْ بِالْحِجَازِ أَحَدًا خَالَفَ فِيهِ عَنْهُ بِالْحِجَازِ، وَلَا عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُما وَمِمَّنْ قَالَ: الدِّيَةُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَلَقَدْ رَوَاهُ عِكْرِمَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى بِالدِّيَةِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ: أَفَتَقُولُ: إِنَّ الدِّيَةَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَزْنَ سِتَّةٍ؟ فَقَالَ: لَا فَقُلْتُ: فَمِنْ أَيْنَ زَعَمْتَ أَنَّكَ عَنْ عُمَرَ قَبِلْتَهَا، وَأَنَّ عُمَرَ قَضَى فِيهَا بِشَيْءٍ لَا تَقْضِي بِهِ ⦗١٤١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَكَذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَحَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَدْ رُوِّينَاهُ مَوْصُولًا، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمَعَهُ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”دیت تمام اونٹوں میں، چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے، فی اونٹ 120 درہم مقرر کی گئی ہے، جو چھ کے وزن کے برابر ہیں اور یہ 10,000 درہم بنتے ہیں۔“ شریک بن عبداللہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ اگر ایک آدمی مشرک سے لڑتا ہے، جب وہ اسے مارتا ہے تو کسی مسلمان کو لگ جاتا ہے تو شریک رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے فرمایا: اس صورت میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جو فیصلہ فرمایا وہ 12,000 درہموں کا تھا اور درہم اس وقت چھ کے وزن کا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بہت سارے حجازی مثلاً عطاء، مکحول، عمرو بن شعیب رحمہم اللہ وغیرہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دیت 12,000 درہم ہی نقل کی ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ اہل حجاز میں سے کسی نے اس کی مخالفت بھی کی ہو اور نہ ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی، اور جو دیت 12,000 درہم کہتے ہیں ان میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی قابلِ ذکر ہیں اور عکرمہ رحمہ اللہ نے نبی ﷺ سے ایک دیت کا فیصلہ ”12,000 درہم“ ہی روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن حسن رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ دیت 12,000 درہم ہے، جو چھ کے وزن کے برابر ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہاں سے یہ قبول کر لیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا ہے لیکن آپ کیوں نہیں کرتے؟ شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقطع ہے اور اسی طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی، اور حدیث عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ جسے ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موصولاً بیان کیا ہے اور اسی کے ساتھ حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی۔ واللہ اعلم۔