کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک دیت کے اونٹ پانچ حصوں پر مشتمل ہیں، اور انہوں نے پانچویں حصے میں ابنِ لبون (دو سالہ اونٹ) کی بجائے ابنِ مخاض (ایک سالہ اونٹ) کو مقرر کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْخَطَأِ أَخْمَاسٌ: عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ بَنَاتُ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتُ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بَنُو مَخَاضٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي كِتَابِهِ الْمُصَنَّفِ فِي الدِّيَاتِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(۱۶۱۲۷) نمبر پر پہلے گزر چکی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي دِيَةِ الْخَطَأِ أَخْمَاسٌ: خُمُسٌ بَنُو مَخَاضٍ، وَخُمُسٌ بَنَاتُ مَخَاضٍ، وَخُمُسٌ بَنَاتُ لَبُونٍ، وَخُمُسٌ حِقَاقٌ، وَخُمُسٌ جِذَاعٌ هَذَا هُوَ الْمَعْرُوفُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِهَذِهِ الْأَسَانِيدِ وَقَدْ رَوَى بَعْضُ حُفَّاظِنَا، وَهُوَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ هَذِهِ الْأَسَانِيدَ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَجَعَلَ مَكَانَ بَنِي الْمَخَاضِ، بَنِي اللَّبُونِ، وَهُوَ غَلَطٌ مِنْهُ وَقَدْ رَأَيْتُهُ أَيْضًا فِي كِتَابِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَهُوَ إِمَامٌ فِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ بِإِسْنَادَيْهِ، كَذَلِكَ بَنِي لَبُونٍ وَفِي رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، كَذَلِكَ بَنِي لَبُونٍ وَرَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ ⦗١٣٢⦘ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: بَنِي مَخَاضٍ فَإِنْ كَانَ مَا رَوَيَاهُ مَحْفُوظًا فَهُوَ الَّذِي نَمِيلُ إِلَيْهِ، وَصَارَتِ الرِّوَايَاتُ فِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُتَعَارِضَةً، وَمَذْهَبُ عَبْدِ اللهِ مَشْهُورٌ فِي بَنِي الْمَخَاضِ، وَقَدِ اخْتَارَ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُنْذِرِ فِي هَذَا مَذْهَبَهُ، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ إِنَّمَا صَارَ إِلَى قَوْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ؛ لِأَنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِيهَا، وَالسُّنَّةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَدَتْ مُطْلَقَةً بِمِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ غَيْرَ مُفَسَّرَةٍ، وَاسْمُ الْإِبِلِ يَتَنَاوَلُ الصِّغَارَ وَالْكِبَارَ، فَأَلْزَمَ الْقَاتِلَ أَقَلَّ مَا قَالُوا إِنَّهُ يَلْزَمُهُ، فَكَانَ عِنْدَهُ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَقَلَّ مَا قِيلَ فِيهَا، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَبْلُغْهُ قَوْلُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَوَجَدْنَا قَوْلَ عَبْدِ اللهِ أَقَلَّ مَا قِيلَ فِيهَا؛ لِأَنَّ بَنِي الْمَخَاضِ أَقَلُّ مِنْ بَنِي اللَّبُونِ، وَاسْمُ الْإِبِلِ يَتَنَاوَلُهُ، فَكَانَ هُوَ الْوَاجِبَ دُونَ مَا زَادَ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ صَحَابِيٍّ فَهُوَ أَوْلَى مِنْ غَيْرِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثُ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا، وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قتلِ خطا کی دیت کی پانچ اقسام منقول ہیں: پانچواں حصہ «بَنُو مَخَاضٍ» ”بنو مخاض“، پانچواں حصہ «بَنَاتُ مَخَاضٍ» ”بنات مخاض“، پانچواں حصہ «بَنَاتُ لَبُونٍ» ”بنات لبون“، پانچواں حصہ «حِقَّة» ”حقے“ اور پانچواں حصہ «جَذَعَة» ”جذعے“۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان اسناد کے ساتھ یہی معروف ہے اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بعض سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرق سے ہی روایت کی ہے جس میں «بَنِي مَخَاضٍ» ”بنی مخاض“ کی جگہ «بَنِي لَبُونٍ» ”بنی لبون“ کے الفاظ ہیں۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ میں نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی ایک روایت میں دیکھا ہے جو وہ سفیان رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں ان میں بھی «بَنِي لَبُونٍ» ”بنی لبون“ کے الفاظ ہیں، لیکن علقمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «بَنِي مَخَاضٍ» ”بنی مخاض“ کے الفاظ روایت کرتے ہیں۔ اب اس بارے میں روایات متعارض ہیں، لیکن مشہور قول کے مطابق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «بَنِي مَخَاضٍ» ”بنی مخاض“ ہی ثابت ہے۔ امام ابوبکر ابن المنذر رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں انہی کا مذہب اختیار کیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے دیتِ خطا میں اہل مدینہ کا مذہب اس لیے اختیار کیا کہ لوگوں میں اس بارے میں اختلاف ہے اور نبی ﷺ سے صرف 100 اونٹ ثابت ہیں، ان کی صفات نہیں اور لفظ ’اونٹ‘ چھوٹے بڑے تمام کو شامل ہے، تو انہوں نے قاتل پر کم از کم وہ لازم کیا جو لازم ہونے کا قول کیا گیا ہے اور ان کے نزدیک اہل مدینہ کا قول سب سے کم تھا، گویا انہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہیں پہنچا۔ ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول سب سے کم پایا، کیونکہ «بَنُو مَخَاضٍ» ”بنو مخاض“، «بَنُو لَبُونٍ» ”بنو لبون“ سے چھوٹے ہوتے ہیں اور لفظ ’اونٹ‘ میں یہ بھی داخل ہیں، لہٰذا یہی واجب ہے، اس سے زائد نہیں، اور یہ قولِ صحابی ہے، اس لیے یہی اولیٰ ہے، وباللہ التوفیق۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ایک دوسری سند سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان اسناد کے ساتھ یہی معروف ہے اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بعض سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرق سے ہی روایت کی ہے جس میں «بَنِي مَخَاضٍ» ”بنی مخاض“ کی جگہ «بَنِي لَبُونٍ» ”بنی لبون“ کے الفاظ ہیں۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ میں نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی ایک روایت میں دیکھا ہے جو وہ سفیان رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں ان میں بھی «بَنِي لَبُونٍ» ”بنی لبون“ کے الفاظ ہیں، لیکن علقمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «بَنِي مَخَاضٍ» ”بنی مخاض“ کے الفاظ روایت کرتے ہیں۔ اب اس بارے میں روایات متعارض ہیں، لیکن مشہور قول کے مطابق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «بَنِي مَخَاضٍ» ”بنی مخاض“ ہی ثابت ہے۔ امام ابوبکر ابن المنذر رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں انہی کا مذہب اختیار کیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے دیتِ خطا میں اہل مدینہ کا مذہب اس لیے اختیار کیا کہ لوگوں میں اس بارے میں اختلاف ہے اور نبی ﷺ سے صرف 100 اونٹ ثابت ہیں، ان کی صفات نہیں اور لفظ ’اونٹ‘ چھوٹے بڑے تمام کو شامل ہے، تو انہوں نے قاتل پر کم از کم وہ لازم کیا جو لازم ہونے کا قول کیا گیا ہے اور ان کے نزدیک اہل مدینہ کا قول سب سے کم تھا، گویا انہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہیں پہنچا۔ ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول سب سے کم پایا، کیونکہ «بَنُو مَخَاضٍ» ”بنو مخاض“، «بَنُو لَبُونٍ» ”بنو لبون“ سے چھوٹے ہوتے ہیں اور لفظ ’اونٹ‘ میں یہ بھی داخل ہیں، لہٰذا یہی واجب ہے، اس سے زائد نہیں، اور یہ قولِ صحابی ہے، اس لیے یہی اولیٰ ہے، وباللہ التوفیق۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ایک دوسری سند سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَعَلَ الدِّيَةَ فِي الْخَطَأِ أَخْمَاسًا لَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”دیتِ خطا میں پانچ اقسام مقرر فرمائی ہیں۔“ (راوی نے) اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا الْحَجَّاجُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي دِيَةِ الْخَطَأِ عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ ابْنَةَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَةَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَ مَخَاضٍ ذُكُرٌ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللهِ، يَعْنِي إِنَّمَا رُوِيَ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ مَوْقُوفًا غَيْرَ مَرْفُوعٍ ⦗١٣٣⦘.
حافظ ثناء اللہ
یہ حدیث پہلے نمبر (16157) کے تحت گزر چکی ہے۔
امام ابوداود رحمہ اللہ نے کہا: یہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، یعنی یہ صرف سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر موقوفاً روایت کی گئی ہے، مرفوعاً نہیں۔
امام ابوداود رحمہ اللہ نے کہا: یہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، یعنی یہ صرف سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر موقوفاً روایت کی گئی ہے، مرفوعاً نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ فِي تَعْلِيلِ هَذَا الْحَدِيثِ: لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ إِلَّا خِشْفُ بْنُ مَالِكٍ، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَرْمَلٍ الْجُشَمِيُّ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِلَّا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَالْحَجَّاجُ فرَجُلٌ مَشْهُورٌ بِالتَّدْلِيسِ، وَبِأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَمَّنْ لَمْ يَلْقَهُ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ قَالَ: وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ عَنِ الْحَجَّاجِ فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ فِيهِ، فَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ عَنْهُ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ الْحَجَّاجِ فَجَعَلَ مَكَانَ الْحِقَاقِ بَنِي اللَّبُونِ، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْحَجَّاجِ فَجَعَلَ مَكَانَ بَنِي الْمَخَاضِ بَنِي اللَّبُونِ، وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَجَمَاعَةٌ عَنِ الْحَجَّاجِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا لَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ تَفْسِيرَ الْأَخْمَاسِ، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْحَجَّاجُ رُبَّمَا كَانَ يُفَسِّرُ الْأَخْمَاسَ بِرَأْيِهِ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنَ الْحَدِيثِ، فَيَتَوَّهَمُ السَّامِعُ أَنَّ ذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَيْفَمَا كَانَ، فَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَخِشْفُ بْنُ مَالِكٍ مَجْهُولٌ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ جَعَلَ أَحَدَ أَخْمَاسِهَا بَنِي الْمَخَاضِ فِي الْأَسَانِيدِ الَّتِي تَقَدَّمَ ذِكْرُهَا، لَا كَمَا تَوَّهَمَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ، رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ وَقَدِ اعْتَذَرَ مَنْ رَغِبَ عَنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا بِشَيْئَيْنِ: أَحَدُهُمَا ضَعْفُ رِوَايَةِ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِمَا ذَكَرْنَا، وَانْقِطَاعُ رِوَايَةِ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ مَوْقُوفًا، فَإِنَّهُ إِنَّمَا رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ وَأَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَرِوَايَةُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللهِ مُنْقَطِعَةٌ لَا شَكَّ فِيهَا، وَرِوَايَةُ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ؛ لِأَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَاهُ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ مُنْقَطِعَةٌ؛ لِأَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ رَأَى عَلْقَمَةَ لَكِنْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا،.
حافظ ثناء اللہ
امام دارقطنی رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تعلیل میں فرماتے ہیں کہ ہم اس کو صرف خشف بن مالک کے طرق سے جانتے ہیں اور یہ مجہول ہے، ان سے صرف زید بن جبیر اور ان سے صرف حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے اور حجاج مشہور مدلس ہے اور یہ غیر مسموع عنہ سے بھی روایات کرتا تھا اور یحییٰ بن سعید اموی نے حجاج سے «حِقَّة» ”حقہ“ کی جگہ «ابْنُ لَبُون» ”ابن لبون“ کے الفاظ بھی نقل کیے ہیں اور اسماعیل بن عیاش نے حجاج سے «بَنِي مَخَاض» ”بنی مخاض“ کی جگہ «ابْنُ لَبُون» ”ابن لبون“ کے الفاظ نقل کیے ہیں اور ایک جماعت نے حجاج سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ”پانچ اقسام“ بیان کی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ حجاج کبھی حدیث سے فارغ ہونے کے بعد اپنی رائے سے ان کی تفسیر بیان کر دیتے تھے، جس سے سامع کو گمان گزرتا ہے کہ یہ حدیث کا حصہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ بہرحال حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں اور خشف مجہول ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اور صحیح یہی ہے کہ ان پانچ اقسام میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک «بَنِي مَخَاض» ”بنی مخاض“ کو بتاتے ہیں، نہ کہ وہ جو دارقطنی رحمہ اللہ نے گمان کیا ہے۔
جو لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول سے اعراض کرتے ہیں، وہ دو عذر بناتے ہیں: پہلا یہ کہ خشف بن مالک کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے اور دوسرا یہ کہ موقوف روایت میں بھی انقطاع ہے، کیونکہ اسے صرف ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے والد سے اور ابواسحاق نے علقمہ کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ابراہیم کی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بلا شک منقطع ہے، اسی طرح ابوعبیدہ کی اپنے والد سے روایت بھی، کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا، اور اسی طرح ابواسحاق سبیعی کی علقمہ سے روایت بھی منقطع ہے، کیونکہ ابواسحاق نے علقمہ کو دیکھا ہے لیکن ان سے کچھ نہیں سنا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ بہرحال حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں اور خشف مجہول ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اور صحیح یہی ہے کہ ان پانچ اقسام میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک «بَنِي مَخَاض» ”بنی مخاض“ کو بتاتے ہیں، نہ کہ وہ جو دارقطنی رحمہ اللہ نے گمان کیا ہے۔
جو لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول سے اعراض کرتے ہیں، وہ دو عذر بناتے ہیں: پہلا یہ کہ خشف بن مالک کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے اور دوسرا یہ کہ موقوف روایت میں بھی انقطاع ہے، کیونکہ اسے صرف ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے والد سے اور ابواسحاق نے علقمہ کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ابراہیم کی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بلا شک منقطع ہے، اسی طرح ابوعبیدہ کی اپنے والد سے روایت بھی، کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا، اور اسی طرح ابواسحاق سبیعی کی علقمہ سے روایت بھی منقطع ہے، کیونکہ ابواسحاق نے علقمہ کو دیکھا ہے لیکن ان سے کچھ نہیں سنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ: هَلْ تَذْكُرُ مِنْ عَبْدِ اللهِ شَيْئًا؟ قَالَ: مَا أَذْكُرُ مِنْهُ شَيْئًا⦗١٣٤⦘.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو عبیدہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ کیا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کوئی چیز آپ نقل کرتے ہیں؟ کہتے ہیں کہ میں ان سے کچھ بھی نقل نہیں کرتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَرُوبَةَ، وَيَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ قَالَا: ثنا بُنْدَارٌ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي إِسْحَاقَ فَقَالَ رَجُلٌ لِأَبِي إِسْحَاقَ: إِنَّ شُعْبَةَ يَقُولُ: إِنَّكَ لَمْ تَسْمَعْ مِنْ عَلْقَمَةَ شَيْئًا؟ فَقَالَ: صَدَقَ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ابو اسحاق رحمہ اللہ کے پاس تھا تو ایک شخص نے ابو اسحاق رحمہ اللہ سے کہا کہ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: آپ نے علقمہ رحمہ اللہ سے کچھ نہیں سنا تو انہوں نے جواب دیا: اس نے سچ کہا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: أَبُو إِسْحَاقَ قَدْ رَأَى عَلْقَمَةَ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ وَالْآخَرُ حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ فِي الَّذِي وَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيهِ: بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَبَنُو الْمَخَاضِ لَا مَدْخَلَ لَهَا فِي أَصْلِ الصَّدَقَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَحَدِيثُ الْقَسَامَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ وَنَحْنُ نَتَكَلَّمُ فِي قَتْلِ الْخَطَأِ، فَحِينَ لَمْ يَثْبُتْ ذَلِكَ الْقَتْلُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ بِعَيْنِهِ وَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِيَةِ الْخَطَأِ مُتَبَرِّعًا بِذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَلَا مَدْخَلَ لِلْخَلِفَاتِ الَّتِي تَجِبُ فِي دِيَةِ الْعَمْدِ فِي أَصْلِ الصَّدَقَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو اسحاق رحمہ اللہ نے علقمہ رحمہ اللہ کو دیکھا ہے لیکن سنا کچھ نہیں اور دوسری جو سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کے اونٹوں سے دیت ادا کی اور «بَنُو مَخَاضٍ» صدقہ میں شامل ہی نہیں، واللہ اعلم۔ حدیثِ قسامہ قتلِ عمد میں ہے اور ہم قتلِ خطا کی بات کر رہے ہیں۔ جب ان میں سے کسی پر قتل ثابت ہی نہیں ہوا تھا، آپ ﷺ نے اپنی طرف سے دیت ادا کر دی تھی، واللہ اعلم۔ وہ جو اس بات پر دال ہیں وہ صدقہ کے اونٹوں سے تھیں تو جو «خَلِفَات» میں وہ بھی اصل صدقہ میں داخل نہیں ہیں۔