السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: من قال: هي أخماس، وجعل أحد أخماسها بني المخاض دون بني اللبون باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک دیت کے اونٹ پانچ حصوں پر مشتمل ہیں، اور انہوں نے پانچویں حصے میں ابنِ لبون (دو سالہ اونٹ) کی بجائے ابنِ مخاض (ایک سالہ اونٹ) کو مقرر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 16164
أَخْبَرَنَا عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: أَبُو إِسْحَاقَ قَدْ رَأَى عَلْقَمَةَ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ وَالْآخَرُ حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ فِي الَّذِي وَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيهِ: بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَبَنُو الْمَخَاضِ لَا مَدْخَلَ لَهَا فِي أَصْلِ الصَّدَقَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَحَدِيثُ الْقَسَامَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ وَنَحْنُ نَتَكَلَّمُ فِي قَتْلِ الْخَطَأِ، فَحِينَ لَمْ يَثْبُتْ ذَلِكَ الْقَتْلُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ بِعَيْنِهِ وَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِيَةِ الْخَطَأِ مُتَبَرِّعًا بِذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَلَا مَدْخَلَ لِلْخَلِفَاتِ الَّتِي تَجِبُ فِي دِيَةِ الْعَمْدِ فِي أَصْلِ الصَّدَقَاتِ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو اسحاق رحمہ اللہ نے علقمہ رحمہ اللہ کو دیکھا ہے لیکن سنا کچھ نہیں اور دوسری جو سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کے اونٹوں سے دیت ادا کی اور «بَنُو مَخَاضٍ» صدقہ میں شامل ہی نہیں، واللہ اعلم۔ حدیثِ قسامہ قتلِ عمد میں ہے اور ہم قتلِ خطا کی بات کر رہے ہیں۔ جب ان میں سے کسی پر قتل ثابت ہی نہیں ہوا تھا، آپ ﷺ نے اپنی طرف سے دیت ادا کر دی تھی، واللہ اعلم۔ وہ جو اس بات پر دال ہیں وہ صدقہ کے اونٹوں سے تھیں تو جو «خَلِفَات» میں وہ بھی اصل صدقہ میں داخل نہیں ہیں۔