حدیث نمبر: 16158
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي دِيَةِ الْخَطَأِ أَخْمَاسٌ: خُمُسٌ بَنُو مَخَاضٍ، وَخُمُسٌ بَنَاتُ مَخَاضٍ، وَخُمُسٌ بَنَاتُ لَبُونٍ، وَخُمُسٌ حِقَاقٌ، وَخُمُسٌ جِذَاعٌ هَذَا هُوَ الْمَعْرُوفُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِهَذِهِ الْأَسَانِيدِ وَقَدْ رَوَى بَعْضُ حُفَّاظِنَا، وَهُوَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ هَذِهِ الْأَسَانِيدَ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَجَعَلَ مَكَانَ بَنِي الْمَخَاضِ، بَنِي اللَّبُونِ، وَهُوَ غَلَطٌ مِنْهُ وَقَدْ رَأَيْتُهُ أَيْضًا فِي كِتَابِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَهُوَ إِمَامٌ فِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ بِإِسْنَادَيْهِ، كَذَلِكَ بَنِي لَبُونٍ وَفِي رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، كَذَلِكَ بَنِي لَبُونٍ وَرَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ ⦗١٣٢⦘ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: بَنِي مَخَاضٍ فَإِنْ كَانَ مَا رَوَيَاهُ مَحْفُوظًا فَهُوَ الَّذِي نَمِيلُ إِلَيْهِ، وَصَارَتِ الرِّوَايَاتُ فِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُتَعَارِضَةً، وَمَذْهَبُ عَبْدِ اللهِ مَشْهُورٌ فِي بَنِي الْمَخَاضِ، وَقَدِ اخْتَارَ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُنْذِرِ فِي هَذَا مَذْهَبَهُ، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ إِنَّمَا صَارَ إِلَى قَوْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ؛ لِأَنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِيهَا، وَالسُّنَّةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَدَتْ مُطْلَقَةً بِمِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ غَيْرَ مُفَسَّرَةٍ، وَاسْمُ الْإِبِلِ يَتَنَاوَلُ الصِّغَارَ وَالْكِبَارَ، فَأَلْزَمَ الْقَاتِلَ أَقَلَّ مَا قَالُوا إِنَّهُ يَلْزَمُهُ، فَكَانَ عِنْدَهُ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَقَلَّ مَا قِيلَ فِيهَا، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَبْلُغْهُ قَوْلُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَوَجَدْنَا قَوْلَ عَبْدِ اللهِ أَقَلَّ مَا قِيلَ فِيهَا؛ لِأَنَّ بَنِي الْمَخَاضِ أَقَلُّ مِنْ بَنِي اللَّبُونِ، وَاسْمُ الْإِبِلِ يَتَنَاوَلُهُ، فَكَانَ هُوَ الْوَاجِبَ دُونَ مَا زَادَ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ صَحَابِيٍّ فَهُوَ أَوْلَى مِنْ غَيْرِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثُ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا، وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قتلِ خطا کی دیت کی پانچ اقسام منقول ہیں: «بَنُو مَخَاضٍ» ”بنو مخاض“ پانچ، پانچ «بَنَاتُ مَخَاضٍ» ”بنات مخاض“، پانچ «بَنَاتُ لَبُونٍ» ”بنات لبون“، پانچ «حِقَّة» ”حقے“ اور پانچ «جَذَعَة» ”جذعے“۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان اسناد کے ساتھ یہی معروف ہے اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بعض سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرق سے ہی روایت کی ہے جس میں «بَنِي مَخَاضٍ» ”بنی مخاض“ کی جگہ «بَنِي لَبُونٍ» ”بنی لبون“ کے الفاظ ہیں۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ میں نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی ایک روایت میں دیکھا ہے جو وہ سفیان رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں ان میں بھی «بَنِي لَبُونٍ» ”بنی لبون“ کے الفاظ ہیں، لیکن علقمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «بَنِي مَخَاضٍ» ”بنی مخاض“ کے الفاظ روایت کرتے ہیں۔ اب اس بارے میں روایات متعارض ہیں، لیکن مشہور قول کے مطابق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «بَنِي مَخَاضٍ» ”بنی مخاض“ ہی ثابت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی اس مسئلہ میں دیتِ خطا میں اہل مدینہ کے مذہب کی طرف ہیں۔ کیونکہ لوگوں میں اس بارے میں اختلاف ہے، لیکن نبی ﷺ سے صرف 100 اونٹ ثابت ہیں، ان کی صفات نہیں اور لفظ ’اونٹ‘ چھوٹے بڑے تمام کو شامل ہے اور «بَنُو مَخَاضٍ» ”بنو مخاض“، «بَنُو لَبُونٍ» ”بنو لبون“ سے چھوٹے ہوتے ہیں، لہٰذا اونٹ میں تو یہ بھی داخل ہیں اور کم از کم قاتل کے لیے یہ دیت تو لازمی ہے۔ اہل مدینہ کا بھی یہی مؤقف ہے اور قولِ صحابی بھی یہی ہے اور یہی اولیٰ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16158
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»