❮
❯
حدیث نمبر: 16161
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ فِي تَعْلِيلِ هَذَا الْحَدِيثِ: لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ إِلَّا خِشْفُ بْنُ مَالِكٍ، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَرْمَلٍ الْجُشَمِيُّ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِلَّا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَالْحَجَّاجُ فرَجُلٌ مَشْهُورٌ بِالتَّدْلِيسِ، وَبِأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَمَّنْ لَمْ يَلْقَهُ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ قَالَ: وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ عَنِ الْحَجَّاجِ فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ فِيهِ، فَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ عَنْهُ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ الْحَجَّاجِ فَجَعَلَ مَكَانَ الْحِقَاقِ بَنِي اللَّبُونِ، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْحَجَّاجِ فَجَعَلَ مَكَانَ بَنِي الْمَخَاضِ بَنِي اللَّبُونِ، وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَجَمَاعَةٌ عَنِ الْحَجَّاجِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا لَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ تَفْسِيرَ الْأَخْمَاسِ، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْحَجَّاجُ رُبَّمَا كَانَ يُفَسِّرُ الْأَخْمَاسَ بِرَأْيِهِ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنَ الْحَدِيثِ، فَيَتَوَّهَمُ السَّامِعُ أَنَّ ذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَيْفَمَا كَانَ، فَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَخِشْفُ بْنُ مَالِكٍ مَجْهُولٌ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ جَعَلَ أَحَدَ أَخْمَاسِهَا بَنِي الْمَخَاضِ فِي الْأَسَانِيدِ الَّتِي تَقَدَّمَ ذِكْرُهَا، لَا كَمَا تَوَّهَمَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ، رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ وَقَدِ اعْتَذَرَ مَنْ رَغِبَ عَنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا بِشَيْئَيْنِ: أَحَدُهُمَا ضَعْفُ رِوَايَةِ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِمَا ذَكَرْنَا، وَانْقِطَاعُ رِوَايَةِ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ مَوْقُوفًا، فَإِنَّهُ إِنَّمَا رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ وَأَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَرِوَايَةُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللهِ مُنْقَطِعَةٌ لَا شَكَّ فِيهَا، وَرِوَايَةُ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ؛ لِأَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَاهُ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ مُنْقَطِعَةٌ؛ لِأَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ رَأَى عَلْقَمَةَ لَكِنْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا،.
حافظ ثناء اللہ

امام دارقطنی رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تعلیل میں فرماتے ہیں کہ ہم اس کو صرف خشف بن مالک کے طرق سے جانتے ہیں اور یہ مجہول ہے، ان سے صرف زید بن جبیر اور ان سے صرف حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے اور حجاج مشہور مدلس ہے اور یہ غیر مسموع عنہ سے بھی روایات کرتا تھا اور یحییٰ بن سعید اموی نے حجاج سے «حِقَّة» ”حقہ“ کی جگہ «ابْنُ لَبُون» ”ابن لبون“ کے الفاظ بھی نقل کیے ہیں اور اسماعیل بن عیاش نے حجاج سے «بَنِي مَخَاض» ”بنی مخاض“ کی جگہ «ابْنُ لَبُون» ”ابن لبون“ کے الفاظ نقل کیے ہیں اور ایک جماعت نے حجاج سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ”پانچ اقسام“ بیان کی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ حجاج کبھی حدیث سے فارغ ہونے کے بعد اپنی رائے سے ان کی تفسیر بیان کر دیتے تھے، جس سے سامع کو گمان گزرتا ہے کہ یہ حدیث کا حصہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ بہرحال حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں اور خشف مجہول ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اور صحیح یہی ہے کہ ان پانچ اقسام میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک «بَنِي مَخَاض» ”بنی مخاض“ کو بتاتے ہیں، نہ کہ وہ جو دارقطنی رحمہ اللہ نے گمان کیا ہے۔
جو لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول سے اعراض کرتے ہیں، وہ دو عذر بناتے ہیں: پہلا یہ کہ خشف بن مالک کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے اور دوسرا یہ کہ موقوف روایت میں بھی انقطاع ہے، کیونکہ اسے صرف ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے والد سے اور ابواسحاق نے علقمہ کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ابراہیم کی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بلا شک منقطع ہے، اسی طرح ابوعبیدہ کی اپنے والد سے روایت بھی، کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا، اور اسی طرح ابواسحاق سبیعی کی علقمہ سے روایت بھی منقطع ہے، کیونکہ ابواسحاق نے علقمہ کو دیکھا ہے لیکن ان سے کچھ نہیں سنا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16161
درجۂ حدیث محدثین: صحيح للدارقطني
تخریج حدیث «صحيح للدارقطني»