کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قصاص میں (معاف کرنے یا دیت لینے کا) اختیار ہونے کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ}.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾ ”پھر جس (قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو (مطالبہ کرنے والے کو) دستور کے مطابق پیروی کرنی چاہیے اور (قاتل کو) اچھے طریقے سے اسے ادائیگی کرنی چاہیے۔“ [سورة البقرة: 178]
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ مُوسَى، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ نَفَرٍ، حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْهُمْ: مُجَاهِدًا، وَالْحَسَنَ وَالضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ١٧٨] الْآيَةَ، قَالَ: كَانَ كُتِبَ عَلَى أَهْلِ التَّوْرَاةِ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، حُقَّ أَنْ يُقَادَ بِهَا، وَلَا يُعْفَى عَنْهُ، وَلَا يُقْبَلَ مِنْهُ الدِّيَةُ، وَفُرِضَ عَلَى أَهْلِ الْإِنْجِيلِ أَنْ يُعْفَى عَنْهُ وَلَا يُقْتَلُ، وَرُخِّصَ لَأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ شَاءَ قَتَلَ، وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ} [البقرة: ١٧٨] يَقُولُ: الدِّيَةُ تَخْفِيفٌ مِنَ اللهِ؛ إِذْ جَعَلَ الدِّيَةَ، وَلَا يُقْتَلُ، ثُمَّ قَالَ: {فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: ١٧٨]، يَقُولُ: مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِ الدِّيَةِ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ، وَقَالَ فِي قَوْلِهِ: {وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ} [البقرة: ١٧٩]، يَقُولُ: لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَنْتَهِي بِهَا بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ أَنْ يُصِيبَ مَخَافَةَ أَنْ يُقْتَلَ.
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ تفسیر ایک جماعت سے حاصل کی، ان میں سے (راوی) معاذ (بن موسیٰ) کو مجاہد، حسن اور ضحاک بن مزاحم رحمہم اللہ کے نام یاد رہے۔ وہ اس آیت ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 178] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اہل تورات پر صرف قصاص ہی لازم تھا، معافی یا دیت نہیں تھی، اور اہل انجیل پر یہ فرض کیا گیا تھا کہ قاتل کو معاف کیا جائے اور قتل نہ کیا جائے۔ امتِ محمدیہ ﷺ کو یہ رخصت دی گئی کہ وہ چاہیں تو قتل (قصاص) کر دیں، چاہیں تو دیت لے لیں اور چاہیں تو معاف کر دیں؛ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: ﴿ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ﴾ [سورة البقرة: 178] ”یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے تخفیف اور رحمت ہے۔“ دیت کو اللہ تعالیٰ نے تخفیف بنا دیا اور دیت لینے کے بعد اسے (قاتل کو) قتل نہیں کیا جا سکتا، پھر فرمایا: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 178] ”جس نے دیت لینے کے بعد بھی قتل کر دیا تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے“ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ﴾ [سورة البقرة: 179] ”تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے“ یعنی کوئی شخص کسی کو اس ڈر سے قتل نہیں کرے گا کہ جب اسے معلوم ہوگا کہ بدلے میں اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ⦗٩٢⦘ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فِي قَوْلِهِ: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ} [البقرة: ١٧٨]، يَقُولُ: إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ بِعَمْدٍ، فَعَفَا عَنْهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ، وَلَمْ يَقْتَصَّ مِنْهُ وَقَبِلَ الدِّيَةَ، فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ، يَقُولُ: لِيُحْسِنِ الطَّلَبَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَطْلُوبِ فَقَالَ: {وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ١٧٨]، يَقُولُ: لِيُؤَدِّ الْمَطْلُوبُ إِلَى الطَّالِبِ الدِّيَةَ بِإِحْسَانٍ، قَالَ: وَكَانَ كَتَبَ عَلَى أَهْلِ التَّوْرَاةِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ مِنْ رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ، وَقَالَ فِي قَوْلِهِ: {فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: ١٧٨]، يَقُولُ: مَنْ قَبِلَ الدِّيَةَ، ثُمَّ قَتَلَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ يَقُولُ مُوجِعٌ: وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا قُتِلَ حَمِيمٌ لَهُ تَوَارَى الْقَاتِلُ، فَيَقُولُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ: إِنِّي أَقْبَلُ الدِّيَةَ، فَيَقْبَلُهَا حَتَّى يَرْجِعَ الْقَاتِلُ، فَيَقْتُلَهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ وَقَدْ قَبِلَ الدِّيَةَ قَبْلَ ذَلِكَ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّمَا قَبِلْتُ الدِّيَةَ لِيَرْجِعَ الْقَاتِلُ فَأَقْتُلَهُ إِذَا ظَهَرَ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَنِ اعْتَدَى} [البقرة: ١٧٨] وَقَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ {فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: ١٧٨].
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ﴾ [سورة البقرة: 178] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو جان بوجھ کر قتل کر دے اور مقتول کا ولی اسے معاف کر دے، قصاص نہ لے اور دیت قبول کر لے، ﴿فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 178] کہ وہ اچھے طریقے سے دیت طلب کرے، ﴿وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 178] دیت اچھے طریقے اور احسان سے ادا کر دے، انہوں نے فرمایا کہ اہل تورات پر قصاص ہی فرض تھا۔ پھر مکمل سابقہ حدیث بیان فرمائی۔
اور وہ (مقاتل رحمہ اللہ) ﴿فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 178] کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جو دیت بھی لے لے اور قتل بھی کر دے تو اس کے لیے یہ عذاب ہے کہ اگر کوئی کسی کو قتل کر دے اور قاتل مقتول کے ولیوں سے بات کر کے انہیں دیت پر راضی کر لے، جب وہ دیت دینے آئے تو مقتول کا ولی اسے قتل کر دے اور کہے کہ میں نے دیت اس لیے قبول کی تھی کہ یہ میرے پاس آ جائے تاکہ میں اسے قتل کر دوں تو یہ ہے: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 178] یعنی دیت کے قبول کرنے کے بعد۔
اور وہ (مقاتل رحمہ اللہ) ﴿فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 178] کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جو دیت بھی لے لے اور قتل بھی کر دے تو اس کے لیے یہ عذاب ہے کہ اگر کوئی کسی کو قتل کر دے اور قاتل مقتول کے ولیوں سے بات کر کے انہیں دیت پر راضی کر لے، جب وہ دیت دینے آئے تو مقتول کا ولی اسے قتل کر دے اور کہے کہ میں نے دیت اس لیے قبول کی تھی کہ یہ میرے پاس آ جائے تاکہ میں اسے قتل کر دوں تو یہ ہے: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 178] یعنی دیت کے قبول کرنے کے بعد۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أنبأ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ} [البقرة: ١٧٨]، قَالَ: الْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ، {فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ، ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: ١٧٨] مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، {فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: ١٧٨]،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص تھا، ان میں دیت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے فرمایا: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ﴾ [سورة البقرة: 178]، «عَفْو» کا معنیٰ یہ ہے کہ دیت لے لیں قتل نہ کریں، ﴿فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ﴾ [سورة البقرة: 178] یعنی اس سے جو تم سے پہلوں پر فرض کی گئی، ﴿فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 178]۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ} [البقرة: ١٧٨] فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: كُتِبَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ، وَأُرَخِّصُ لَكُمْ فِي الدِّيَةِ، {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ١٧٨] قَالَ: هُوَ الْعَمْدُ يَرْضَى أَهْلُهُ بِالدِّيَةِ، فَيَتْبَعُ الطَّالِبُ بِمَعْرُوفٍ ⦗٩٣⦘ وَيُؤَدِّي يَعْنِي الْمَطْلُوبَ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ، {ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ} [البقرة: ١٧٨]، قَالَ: مِمَّا كَانَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى﴾ [سورة البقرة: 178] الی آخر الآیۃ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل پر قصاص ہی فرض تھا اور تمہارے لیے دیت کی رخصت دی گئی ہے، ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 178] یعنی جب قتلِ عمد میں ولی المقتول دیت پر راضی ہو جائے تو دیت احسان سے ادا کر دو، ﴿ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 178] یعنی بنی اسرائیل کے مقابلے میں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا، فَإِنِ ارْتَخَصَ أَحَدٌ فَقَالَ: أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ اللهَ أَحَلَّهَا لِي وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَنْتُمْ يَا خُزَاعَةُ قَدْ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَأَنَا وَاللهِ عَاقِلُهُ، مَنْ قَتَلَ بَعْدَهُ قَتِيلًا فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرمت والا بنایا ہے، لوگوں نے نہیں؛ تو جس کا اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان ہے، وہ نہ یہاں خون بہائے اور نہ یہاں کے درخت کاٹے۔ اگر کسی کے لیے اس میں رخصت ہے تو وہ اللہ کے رسول ہیں، میرے لیے اللہ نے اسے حلال کیا ہے، لوگوں کے لیے نہیں۔ میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا۔ پھر یہ اسی طرح حرمت والا ہے جیسے کل تھا۔ اے بنو خزاعہ! تم نے بنو ہذیل کے اس شخص کو قتل کر دیا اور میں اللہ کی قسم! اس کی دیت دینے والا ہوں۔ آج کے بعد کوئی بھی قتل کر دے تو اولیاءِ مقتول کو اختیار ہے کہ وہ چاہیں تو قصاص لے لیں اور چاہیں تو دیت لے لیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْفُضَيْلِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ، فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ: بَيْنَ أَنْ يَقْتَصَّ، أَوْ يَعْفُوَ وَيَأْخُذَ الْعَقْلَ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُ النَّارَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس کا کوئی قتل کر دیا جائے یا زخمی کر دیا جائے تو وہ تین چیزوں میں جو چاہے پسند کر لے، چوتھی کوئی چیز کرے تو اس کے ہاتھ روک لو؛ وہ تین اشیاء یہ ہیں: 1 قصاص لے لے، 2 دیت وصول کر لے، 3 معاف کر دے۔ اگر ان میں سے کوئی چیز قبول کرنے کے بعد زیادتی کرے تو وہ جہنمی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، أَلَا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُعْطَى الدِّيَةَ، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ " قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ ⦗٩٤⦘ لَهُ: أَبُو شَاهٍ، فَقَالَ: اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ شَيْبَانَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " إِمَّا أَنْ يُودَى، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ "، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ عبْدُ اللهِ: " إِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ " وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو خزاعہ نے بنو لیث کے ایک شخص کو فتح مکہ کے دن قصاصاً قتل کردیا، جب آپ ﷺ کو اس کا پتا چلا تو آپ ﷺ سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا: ”اللہ نے مکہ کو ہاتھیوں سے بچایا اور اپنے پیغمبر اور مؤمنوں کو اس کا وارث بنا دیا، سن لو! مکہ نہ پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ کبھی ہوگا، ہاں میرے لیے دن کا کچھ حصہ اسے حلال کیا گیا ہے اور اب اس گھڑی پھر اس کی حرمت قائم و دائم ہے، نہ کوئی اس کا کانٹا توڑے، نہ درخت اکھاڑے اور یہاں کی گری ہوئی (گمشدہ) چیز کوئی نہ اٹھائے علاوہ اس کے جو اعلان کرے، اور جس کا کوئی قتل کردیا جائے تو وہ دو بہترین چیزوں میں اختیار کے ساتھ ہے، چاہے دیت لے لے یا قصاص۔“ ایک شخص اہل یمن سے ابو شاہ نامی آیا اور کہنے لگا: یہ چیزیں مجھے لکھ دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابو شاہ کو لکھ دو۔“ قریش کا ایک آدمی کہنے لگا: یا رسول اللہ! اذخر گھاس کی اجازت تو دے دیں؛ کیونکہ اسے ہم اپنے گھروں میں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو! اذخر گھاس اکھاڑ سکتے ہو۔“
اور صحیح بخاری میں ابونعیم عن شیبان روایت کرتے ہیں کہ ”چاہے وہ ادائیگی کر دے یا قصاص دے دے۔“
اور صحیح بخاری میں ابونعیم عن شیبان روایت کرتے ہیں کہ ”چاہے وہ ادائیگی کر دے یا قصاص دے دے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ قَتَلَتْ خُزَاعَةُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُودَى، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ " قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے دن بنو خزاعہ کے ایک شخص نے بنو لیث کے ایک آدمی کو قصاصاً قتل کر دیا، جو انہوں نے جاہلیت میں کیا تھا۔ پھر انہوں نے سابقہ مکمل حدیث بیان فرمائی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَتَلَتْ هُذَيْلٌ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ: " وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُقَادَ، وَإِمَّا أَنْ يُفَادَى "،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہذیل نے بنو لیث کے ایک شخص کو جاہلیت کے زمانے کے قصاص میں فتح مکہ کے وقت قتل کر دیا۔ پھر (راوی نے) مکمل سابقہ حدیث بیان فرمائی اور یہ بھی (نبی کریم ﷺ نے) فرمایا: ”جس کا کوئی قتل کر دیا جائے تو اسے اختیار ہے چاہے قصاص لے لے یا دیت لے لے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِمَّا أَنْ يُفْدَى، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ "، ⦗٩٥⦘ وَفِي حَدِيثِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ جِيءَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ: " أَتَعْفُو؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَقْتُلُهُ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " اذْهَبْ بِهِ " وَذَلِكَ فِي بَابِ الْعَفْوِ مَذْكُورٌ بِإِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو قتلِ عمد کرے تو قاتل اولیاءِ مقتول کے حوالے کیا جائے۔ چاہے وہ قصاص لیں یا دیت“ اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک قاتل کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے ولی المقتول سے پوچھا: ”کیا اسے معاف کرتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا دیت لو گے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے اسے لے جاؤ۔“