حدیث نمبر: 16037
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا، فَإِنِ ارْتَخَصَ أَحَدٌ فَقَالَ: أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ اللهَ أَحَلَّهَا لِي وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَنْتُمْ يَا خُزَاعَةُ قَدْ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَأَنَا وَاللهِ عَاقِلُهُ، مَنْ قَتَلَ بَعْدَهُ قَتِيلًا فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرمت والا بنایا ہے، لوگوں نے نہیں؛ تو جس کا اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان ہے، وہ نہ یہاں خون بہائے اور نہ یہاں کے درخت کاٹے۔ اگر کسی کے لیے اس میں رخصت ہے تو وہ اللہ کے رسول ہیں، میرے لیے اللہ نے اسے حلال کیا ہے، لوگوں کے لیے نہیں۔ میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا۔ پھر یہ اسی طرح حرمت والا ہے جیسے کل تھا۔ اے بنو خزاعہ! تم نے بنو ہذیل کے اس شخص کو قتل کر دیا اور میں اللہ کی قسم! اس کی دیت دینے والا ہوں۔ آج کے بعد کوئی بھی قتل کر دے تو اولیاءِ مقتول کو اختیار ہے کہ وہ چاہیں تو قصاص لے لیں اور چاہیں تو دیت لے لیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16037
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»