حدیث نمبر: 16043
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ "، ⦗٩٥⦘ وَفِي حَدِيثِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ جِيءَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ: " أَتَعْفُو؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَقْتُلُهُ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " اذْهَبْ بِهِ " وَذَلِكَ فِي بَابِ الْعَفْوِ مَذْكُورٌ بِإِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو قتلِ عمد کرے تو قاتل اولیاءِ مقتول کے حوالے کیا جائے۔ چاہے وہ قصاص لیں یا دیت“ اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک قاتل کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے ولی المقتول سے پوچھا: ”کیا اسے معاف کرتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا دیت لو گے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے اسے لے جاؤ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16043
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»