حدیث نمبر: 16032
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ}.
حافظ ثناء اللہ

اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾ ”پھر جس (قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو (مطالبہ کرنے والے کو) دستور کے مطابق پیروی کرنی چاہیے اور (قاتل کو) اچھے طریقے سے اسے ادائیگی کرنی چاہیے۔“ [سورة البقرة: 178]

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ مُوسَى، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ نَفَرٍ، حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْهُمْ: مُجَاهِدًا، وَالْحَسَنَ وَالضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ١٧٨] الْآيَةَ، قَالَ: كَانَ كُتِبَ عَلَى أَهْلِ التَّوْرَاةِ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، حُقَّ أَنْ يُقَادَ بِهَا، وَلَا يُعْفَى عَنْهُ، وَلَا يُقْبَلَ مِنْهُ الدِّيَةُ، وَفُرِضَ عَلَى أَهْلِ الْإِنْجِيلِ أَنْ يُعْفَى عَنْهُ وَلَا يُقْتَلُ، وَرُخِّصَ لَأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ شَاءَ قَتَلَ، وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ} [البقرة: ١٧٨] يَقُولُ: الدِّيَةُ تَخْفِيفٌ مِنَ اللهِ؛ إِذْ جَعَلَ الدِّيَةَ، وَلَا يُقْتَلُ، ثُمَّ قَالَ: {فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: ١٧٨]، يَقُولُ: مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِ الدِّيَةِ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ، وَقَالَ فِي قَوْلِهِ: {وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ} [البقرة: ١٧٩]، يَقُولُ: لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَنْتَهِي بِهَا بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ أَنْ يُصِيبَ مَخَافَةَ أَنْ يُقْتَلَ.
حافظ ثناء اللہ

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ تفسیر ان بہت سے مفسرین سے سنی جنہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے حفظ کیا، ان میں مجاہد، حسن اور ضحاک بن مزاحم رحمہم اللہ شامل ہیں۔ وہ اس آیت ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 178] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اہل تورات پر صرف قصاص ہی لازم تھا، معافی یا دیت نہیں تھی، اور اصل انجیل والوں پر قصاص اور معافی فرض کی گئی تھی۔ امتِ محمدیہ ﷺ کو یہ رخصت دی گئی کہ وہ چاہیں تو قتل (قصاص) کر دیں، چاہیں تو دیت لے لیں اور چاہیں تو معاف کر دیں؛ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: ﴿ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ﴾ [سورة البقرة: 178] ”یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے تخفیف اور رحمت ہے۔“ دیت کو اللہ تعالیٰ نے تخفیف بنا دیا اور دیت لینے کے بعد اسے (قاتل کو) قتل نہیں کیا جا سکتا، پھر فرمایا: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 178] ”جس نے دیت لینے کے بعد بھی قتل کر دیا تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے“ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ﴾ [سورة البقرة: 179] ”تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے“ یعنی کوئی شخص کسی کو اس ڈر سے قتل نہیں کرے گا کہ جب اسے معلوم ہوگا کہ بدلے میں اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16032
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»