کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس شخص نے کسی آدمی کو زہر پلا دیا ہو اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا فَقَيلَ: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس بکری کا زہریلا گوشت لائی، آپ ﷺ نے اس میں سے کھا لیا۔ بعد میں اسے لایا گیا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: کیا ہم اسے قتل کر دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ پر اس زہر کا اثر ہمیشہ دیکھتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16005
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ ابْنُ النَّضْرِ: أَنْبَأَ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ إِسْنَادِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ قَالَتْ: أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: عَلَيَّ قَالُوا: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَجَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
خالد بن حارث رحمہ اللہ نے اپنی سند سے گزشتہ مکمل روایت بیان کی لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ اسے آپ ﷺ کے پاس لایا گیا اور اس سے اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ کہنے لگی: ”میں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کبھی تجھ کو مجھ پر مسلط نہیں کرے گا“ تو لوگ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! آپ اسے قتل کر دیں“، تو آپ ﷺ نے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16006
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ، وَثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، قَالَ هَارُونُ: عَنْ ⦗٨٣⦘ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَسْمُومَةً، قَالَ: فَمَا عَرَضَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے آپ ﷺ کو بکری کا زہریلا گوشت کھلایا، لیکن آپ ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16007
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً، مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً، ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا، وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ "، وَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا، فَقَالَ لَهَا: " أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟ " قَالَتِ الْيَهُودِيَّةُ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قَالَ: " أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي " لِلذِّرَاعِ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا أَرَدْتِ إِلَى ذَلِكَ؟ " قَالَتْ: قُلْتُ: إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ يَضُرَّهُ، وَإِنْ لَمْ يكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُعَاقِبْهَا، وَتُوُفِّيَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ، وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ، حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کی ایک یہودیہ نے زہر میں بجھا ہوا گوشت آپ ﷺ کو ہدیہ کیا۔ آپ ﷺ نے اس سے دستی والا گوشت لیا اور کھا لیا اور آپ ﷺ کے ساتھ ایک جماعت نے بھی کھایا۔ آپ ﷺ نے فوراً فرمایا: ”اپنے ہاتھ روک لو۔“ آپ ﷺ نے اس یہودیہ کو بلا لیا اور پوچھا: ”کیا تم نے اس میں زہر ملایا ہے؟“ عورت کہنے لگی: آپ کو کس نے بتایا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس دستی نے بتایا ہے۔“ کہنے لگی: جی ملایا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیوں؟“ کہنے لگی کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو آپ کو کچھ نہیں ہوگا اور اگر نبی نہیں ہیں تو ہم آپ سے سکون میں آجائیں گے۔ آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا اور اس گوشت کی وجہ سے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم فوت بھی ہو گئے تھے۔ آپ ﷺ نے بھی اس زہر کا اثر زائل کرنے کے لیے اپنے کندھوں کے درمیان میں سینگی لگوائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16008
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَتْ لَهُ يَهُودِيَّةٌ بِخَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً، نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ قَالَ: فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ: " مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ؟ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَتْ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الْحِجَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک یہودیہ نے ایک زہر میں بجھی ہوئی بکری ہدیہ کی۔ پھر پچھلی مکمل حدیث بیان کی اور مزید فرمایا کہ بشر بن معرور رضی اللہ عنہ اس سے فوت ہو گئے۔ آپ ﷺ نے اس یہودیہ کو بلا کر ایسا کرنے کا سبب پوچھا۔ پھر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی مکمل حدیث بیان کی اور فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، پھر اس کو قصاصاً قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کی روایت میں سینگی کا ذکر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16009
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً دَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابًا لَهُ عَلَى شَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَلَمَّا قَعَدُوا يَأْكُلُونَ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً فَوَضَعَهَا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: " أَمْسِكُوا، إِنَّ هَذِهِ الشَّاةَ مَسْمُومَةٌ "، فَقَالَ لِلْيَهُودِيَّةِ: " وَيْلَكِ لِأِيِّ شَيْءٍ سَمَمْتِنِي؟ " قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ فَأَكَلَ مِنْهَا بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ فَمَاتَ، فَقَتَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودیہ نے نبی ﷺ اور آپ کے کچھ صحابہ کی ایک بھنی ہوئی بکری سے دعوت کی۔ جب سب بیٹھ کر کھانے لگے اور آپ ﷺ نے بھی ایک لقمہ لے کر منہ میں رکھا تو فرمایا: ”رک جاؤ، اس بکری میں زہر ملا ہوا ہے۔“ اس یہودیہ سے پوچھا گیا: تو برباد ہو! یہ تو نے کیوں کیا؟ کہنے لگی: اس لیے تاکہ واضح ہو جائے کہ آپ واقعی نبی ہیں یا نہیں۔ اس گوشت کے کھانے کی وجہ سے بشر بن البراء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو آپ ﷺ نے اس یہودیہ کو قصاصاً قتل کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16010
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَهَا، يَعْنِي الَّتِي سَمَّتْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس عورت کو قتل کروا دیا تھا جس نے زہر ملایا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16011
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يوْمَ خَيْبَرَ أُتِيَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ مَصْلِيَّةٍ أَهْدَتْهَا لَهُ امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِيدًا عَنْهَا، ثُمَّ إِنَّ بِشْرًا تُوُفِّيَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ: " وَيْحَكِ مَاذَا أَطْعَمْتِينَا؟ " قَالَتْ: أَطْعَمْتُكَ السُّمَّ، عَرَفْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا أَنَّ ذَلِكَ لَا يَضُرُّكَ، وَإِنَّ اللهَ سَيَبْلُغُ فِيكَ أَمْرُهُ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُلِبَتْ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عبدالرحمن بن ابی لبیبہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ خیبر کے دن ایک زہریلی بھنی ہوئی بکری لائی گئی جو ایک یہودیہ نے دی تھی، تو اس میں سے نبی کریم ﷺ اور بشر بن البراء رضی اللہ عنہ نے کھا لیا، جس سے دونوں سخت بیمار ہو گئے اور بشر رضی اللہ عنہ تو فوت ہو گئے۔ جب بشر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو نبی کریم ﷺ نے اس یہودیہ کو بلایا اور پوچھا: ”یہ تو نے کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”تاکہ فیصلہ ہو جائے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اور اللہ آپ کو بچا لیں گے، اور اگر نبی نہیں ہیں تو لوگ آپ سے راحت میں آ جائیں گے۔“ تو آپ ﷺ کے حکم سے اسے سولی پر لٹکا دیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16012
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، أنبأ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِهَا فَصُلِبَتْ بَعْدَ أَنْ قَتَلَهَا قَالَ الْوَاقِدِيُّ: الثَّبْتُ عِنْدَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَهَا وَأَمَرَ بِلَحْمِ الشَّاةِ فَأُحْرِقَ قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِي قَتْلِهَا، وَرِوَايَةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَصَحُّهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِابْتِدَاءِ لَمْ يُعَاقِبْهَا حِينَ لَمْ يمُتْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِمَّا أَكَلَ، فَلَمَّا مَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ أَمَرَ بِقَتْلِهَا، فَأَدَّى كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الرُّوَاةِ مَا شَاهَدَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”نبی ﷺ نے اس عورت کو سولی پر لٹکوا دیا۔“
واقدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بات ہمارے نزدیک ثابت ہے کہ اس کو قتل کر دیا گیا تھا اور بکری کے گوشت کو جلا دیا گیا تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے قتل کے بارے میں روایتوں میں اختلاف ہے۔ اس میں سب سے اصح روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ہے، جس میں ذکر ہے کہ اسے کوئی سزا نہیں دی۔ لیکن ہم اسے اس بات پر محمول کریں گے کہ جب تک کچھ نہیں ہوا تھا تو آپ ﷺ نے اس عورت کو کوئی سزا نہ دی اور جب سیدنا بشر بن البراء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو اسے بھی قتل کر دیا گیا اور ہر راوی نے اپنا اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16013
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»