حدیث نمبر: 16010
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً دَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابًا لَهُ عَلَى شَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَلَمَّا قَعَدُوا يَأْكُلُونَ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً فَوَضَعَهَا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: " أَمْسِكُوا، إِنَّ هَذِهِ الشَّاةَ مَسْمُومَةٌ "، فَقَالَ لِلْيَهُودِيَّةِ: " وَيْلَكِ لِأِيِّ شَيْءٍ سَمَمْتِنِي؟ " قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ فَأَكَلَ مِنْهَا بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ فَمَاتَ، فَقَتَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،.
حافظ ثناء اللہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودیہ نے نبی ﷺ اور آپ کے کچھ صحابہ کی ایک بھنی ہوئی بکری سے دعوت کی۔ جب سب بیٹھ کر کھانے لگے اور آپ ﷺ نے بھی ایک لقمہ لے کر منہ میں رکھا تو فرمایا: ”رک جاؤ، اس بکری میں زہر ملا ہوا ہے۔“ اس یہودیہ سے پوچھا گیا: تو برباد ہو! یہ تو نے کیوں کیا؟ کہنے لگی: اس لیے تاکہ واضح ہو جائے کہ آپ واقعی نبی ہیں یا نہیں۔ اس گوشت کے کھانے کی وجہ سے بشر بن البراء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو آپ ﷺ نے اس یہودیہ کو قصاصاً قتل کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16010
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»