السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: من سقى رجلا سما باب: جس شخص نے کسی آدمی کو زہر پلا دیا ہو اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 16005
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا فَقَيلَ: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس بکری کا زہریلا گوشت لائی، آپ ﷺ نے اس میں سے کھا لیا۔ بعد میں اسے لایا گیا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: کیا ہم اسے قتل کر دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ پر اس زہر کا اثر ہمیشہ دیکھتا تھا۔