السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: من سقى رجلا سما باب: جس شخص نے کسی آدمی کو زہر پلا دیا ہو اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يوْمَ خَيْبَرَ أُتِيَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ مَصْلِيَّةٍ أَهْدَتْهَا لَهُ امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِيدًا عَنْهَا، ثُمَّ إِنَّ بِشْرًا تُوُفِّيَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ: " وَيْحَكِ مَاذَا أَطْعَمْتِينَا؟ " قَالَتْ: أَطْعَمْتُكَ السُّمَّ، عَرَفْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا أَنَّ ذَلِكَ لَا يَضُرُّكَ، وَإِنَّ اللهَ سَيَبْلُغُ فِيكَ أَمْرُهُ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُلِبَتْ.یحییٰ بن عبدالرحمن بن ابی لبیبہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ خیبر کے دن ایک زہریلی بھنی ہوئی بکری لائی گئی جو ایک یہودیہ نے دی تھی، تو اس میں سے نبی کریم ﷺ اور بشر بن البراء رضی اللہ عنہ نے کھا لیا، جس سے دونوں سخت بیمار ہو گئے اور بشر رضی اللہ عنہ تو فوت ہو گئے۔ جب بشر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو نبی کریم ﷺ نے اس یہودیہ کو بلایا اور پوچھا: ”یہ تو نے کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”تاکہ فیصلہ ہو جائے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اور اللہ آپ کو بچا لیں گے، اور اگر نبی نہیں ہیں تو لوگ آپ سے راحت میں آ جائیں گے۔“ تو آپ ﷺ کے حکم سے اسے سولی پر لٹکا دیا گیا۔