السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: من سقى رجلا سما باب: جس شخص نے کسی آدمی کو زہر پلا دیا ہو اس کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، أنبأ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِهَا فَصُلِبَتْ بَعْدَ أَنْ قَتَلَهَا قَالَ الْوَاقِدِيُّ: الثَّبْتُ عِنْدَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَهَا وَأَمَرَ بِلَحْمِ الشَّاةِ فَأُحْرِقَ قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِي قَتْلِهَا، وَرِوَايَةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَصَحُّهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِابْتِدَاءِ لَمْ يُعَاقِبْهَا حِينَ لَمْ يمُتْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِمَّا أَكَلَ، فَلَمَّا مَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ أَمَرَ بِقَتْلِهَا، فَأَدَّى كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الرُّوَاةِ مَا شَاهَدَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.محمد بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”نبی ﷺ نے اس عورت کو سولی پر لٹکوا دیا۔“
واقدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بات ہمارے نزدیک ثابت ہے کہ اس کو قتل کر دیا گیا تھا اور بکری کے گوشت کو جلا دیا گیا تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے قتل کے بارے میں روایتوں میں اختلاف ہے۔ اس میں سب سے اصح روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ہے، جس میں ذکر ہے کہ اسے کوئی سزا نہیں دی۔ لیکن ہم اسے اس بات پر محمول کریں گے کہ جب تک کچھ نہیں ہوا تھا تو آپ ﷺ نے اس عورت کو کوئی سزا نہ دی اور جب سیدنا بشر بن البراء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو اسے بھی قتل کر دیا گیا اور ہر راوی نے اپنا اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“