کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جڑواں بچوں کی حاملہ عورت کی عدت پہلے بچے کی پیدائش سے ختم نہیں ہوتی جب تک کہ وہ دوسرے کو بھی جنم نہ دے دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَفِي بَطْنِهَا وَلَدَانِ فَتَضَعُ وَاحِدًا وَيَبْقَى الْآخَرُ قَالَ: " هُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا مَا لَمْ تَضَعِ الْآخَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کے پیٹ میں دو بچے تھے، اس نے ایک کو جنم دیا اور دوسرا باقی رہ گیا۔ فرماتے ہیں: جب تک دوسرا بھی وضع نہ ہو جائے وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
قَالَ: وَنا أَحْمَدُ، نا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح روایت ہے۔
قَالَ: وَنا أَحْمَدُ، نا حَفْصٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا أَحْمَدُ، نا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے اسی طرح۔