حدیث نمبر: 15426
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَعَرَّضَ لَهَا رَجُلٌ بِالْخِطْبَةِ حَتَّى إِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجَهَا فَلَبِثَتْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَنِصْفًا ثُمَّ وَلَدَتْ فَبَلَغَ شَأْنُهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَرْسَلَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: هُوَ وَاللهِ وَلَدُهُ فَسَأَلَ عُمَرُ عَنِ الْمَرْأَةِ فَلَمْ يُخْبِرْ عَنْهَا إِلَّا خَيْرًا ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى نِسَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَجَمَعَهُنَّ ثُمَّ سَأَلَهُنَّ عَنْ شَأْنِهَا وَخَبَرِهَا، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ لَهَا: هَلْ كُنْتِ تَحِيضِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَالَتْ: مَتَى عَهْدُكِ بِزَوْجِكِ؟ قَالَتْ: قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ قَالَتْ: أَنَا أُخْبِرُكَ خَبَرَ هَذِهِ الْمَرْأَةِ حَمَلَتْ مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَتْ تُهَرَاقُ عَلَيْهِ فَحَشَّ وَلَدَهَا عَلَى الْهَرَاقَةِ حَتَّى إِذَا تَزَوَّجَتْ وَأَصَابَهُ الْمَاءُ مِنْ زَوْجِهَا انْتَعَشَ وَتَحَرَّكَ عِنْدَ ذَلِكَ فَانْقَطَعَ عَنْهَا الدَّمُ فَهِيَ حِينَ وَلَدَتْ وَلَدَتْهُ لِتَمَامِ سِتَّةِ أَشْهُرٍ قَالَتِ النِّسَاءُ: صَدَقْتِ هَذَا شَأْنُهَا، فَفَرَّقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عبداللہ بن ابی امیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، اسے ایک دوسرے شخص نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ جب وہ حلال ہو گئی تو اس نے اس سے شادی کر لی، وہ ساڑھے چار ماہ تک ٹھہری رہی، پھر اس نے بچے کو جنم دے دیا۔ پس یہ معاملہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، انہوں نے عورت کی طرف (قاصد) بھیجا اور اس سے سوال کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ میرا بچہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے بارے میں سوال کیا اور ان کو اس عورت کے بارے میں خیر کی خبر دی گئی۔ پھر انہوں نے جاہلیت کی عورتوں کی طرف پیغام بھیجا، ان کو جمع کیا اور ان سے اس کے معاملے اور اس کی خبر کے بارے میں سوال کیا تو ان میں سے ایک عورت نے اس عورت سے کہا: کیا تو حائضہ ہوئی تھی؟ اس نے کہا: ہاں! میں حائضہ ہوئی تھی۔ اس عورت نے کہا: تیرے خاوند کے ہوتے ہوئے تیرے ساتھ یہ معاملہ کب ہوا؟ اس نے کہا: اس کے وفات پانے سے پہلے، اس عورت نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں آپ کو اس کی خبر دیتی ہوں، یہ عورت اپنے پہلے خاوند سے حاملہ ہوئی اور یہ اس پر خون کو بہاتی تھی، اس کا بچہ خون کے بہہ جانے کی وجہ سے سوکھ گیا حتیٰ کہ جب اس نے دوسرے خاوند سے شادی کی، اسے اس خاوند سے پانی پہنچا، یہ پھر سے تر و تازہ ہو گیا اور حرکت کرنے لگا اور اس وجہ سے اس کا خون بھی بند ہو گیا، پس جب اس نے بچہ جنا ہے تو بچہ مکمل چھ ماہ کا جنم دیا ہے۔ عورتوں نے کہا: اس نے اس کے معاملے کو سچا بیان کیا ہے۔ پس عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو جدا کر دیا۔
حدیث نمبر: 15427
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ نا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمُحْتَسِبُ، نا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ خُزَيْمَةَ الْبُخَارِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى التَّيْمِيُّ نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ⦗٦٩٤⦘ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً أَغْزِلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ فَجَعَلَ جَبِينُهُ يَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُهُ يَتَوَلَّدُ نُورًا فَبُهِتُّ فَنَظَرَ إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَالَكِ يَا عَائِشَةُ بُهِتِّ؟ " قُلْتُ: جَعَلَ جَبِينُكَ يَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُكَ يَتَوَلَّدُ نُورًا وَلَوْ رَآكَ أَبُو كَبِيرٍ الْهُذَلِيُّ لَعَلِمَ أَنَّكَ أَحَقُّ بِشِعْرِهِ قَالَ: " وَمَا يَقُولُ أَبُو كَبِيرٍ؟ " قَالَتْ: قُلْتُ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں بیٹھی ہوئی اون کات رہی تھی اور نبی ﷺ اپنے جوتے کو پیوند لگا رہے تھے، آپ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگا اور آپ کے پسینے سے روشنی پھوٹ رہی تھی، میں حیرانی سے خاموش ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے عائشہ! کس چیز نے تجھے حیران کیا ہے؟“ میں نے کہا: آپ کی پیشانی سے نکلنے والے پسینے اور اس پسینے سے نکلنے والی روشنی نے، اور اگر آپ کو ابو کبیر ذہلی دیکھ لیتا تو وہ جان جاتا کہ آپ اس کے شعر کے زیادہ حق دار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابو کبیر نے کیا کہا ہے؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ کہتا ہے:
”اور وہ حیض کی ہر آلودگی سے پاک ہے، دودھ پلانے والی کی خرابی اور درد سر والی کی بیماری سے محفوظ ہے۔ جب تو اس کے چہرے کی رونق کو دیکھے تو وہ ایسے چمک رہا ہوگا جیسے گرجنے چمکنے والے بادل۔“
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی ﷺ میری طرف کھڑے ہوئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تجھے میری طرف سے بہترین بدلہ دے۔“
”اور وہ حیض کی ہر آلودگی سے پاک ہے، دودھ پلانے والی کی خرابی اور درد سر والی کی بیماری سے محفوظ ہے۔ جب تو اس کے چہرے کی رونق کو دیکھے تو وہ ایسے چمک رہا ہوگا جیسے گرجنے چمکنے والے بادل۔“
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی ﷺ میری طرف کھڑے ہوئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تجھے میری طرف سے بہترین بدلہ دے۔“
حدیث نمبر: 15428
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ أَتُصَلِّي؟ قَالَتْ: " لَا حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهَا الدَّمُ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ان سے اس حاملہ عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جو خون کو دیکھتی ہے کہ کیا وہ نماز پڑھے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک اس کا خون بند نہ ہو جائے وہ نماز نہ پڑھے۔
حدیث نمبر: 15429
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: وَرَوَى إِسْحَاقُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " إِذَا رَأَتِ الْحَامِلُ الدَّمَ تَكُفُّ عَنِ الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب حاملہ عورت خون کو دیکھے تو وہ نماز سے رک جائے۔
حدیث نمبر: 15430
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: وَأنا إِبْرَاهِيمُ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: لَا يَخْتَلِفُ عِنْدَنَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي " أَنَّ الْحَامِلَ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ أَنَّهَا تُمْسِكُ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْهُرَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حاملہ عورت جب خون کو دیکھے تو نماز سے رک جائے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے۔
حدیث نمبر: 15431
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ، أنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ أَبِي عِقَالٍ، عَنْ أَنَسٍ وَسُئِلَ عَنِ الْحَامِلِ، أَتَتْرُكُ الصَّلَاةَ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے حاملہ عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب وہ خون دیکھے تو کیا وہ نماز چھوڑ سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر: 15432
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو مَعْمَرٍ، وَنا هَمَّامٌ، نا مَطَرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ فِي " الْحَامِلِ إِذَا رَأَتْ دَمًا فَإِنَّهَا تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ".
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے حاملہ عورت کے بارے میں منقول ہے کہ جب وہ خون دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 15433
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، نا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنا عَبْدَانُ، أنا عَبْدُ اللهِ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهَا فَقَالَتْ إِنِّي أَحِيضُ وَأَنَا حُبْلَى، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " اغْتَسِلِي وَصَلِّي فَإِنَّ الْحُبْلَى لَا تَحِيضُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی اور کہا: میں حائضہ ہوں اور میں حاملہ بھی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو غسل کر اور نماز پڑھ، حاملہ عورت حائضہ نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، وَالْحَوْضِيُّ قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " الْحَامِلُ لَا تَحِيضُ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ فَلْتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي ".
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: حاملہ کو حیض نہیں آتا، جب وہ خون کو دیکھے تو وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 15435
فَهَكَذَا رَوَاهُ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَدْ ضَعَّفَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمُطَرِّزُ نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى نا حَجَّاجٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ هَمَّامٌ: ذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَأَنْكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے ذکر کی، انہوں نے اس کا انکار کیا۔
حدیث نمبر: 15436
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ أَبِي عِصْمَةَ، نا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " الْحَامِلُ لَا تَحِيضُ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ صَلَّتْ " قَالَ: كَانَ يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ يُضَعِّفُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى وَمَطَرًا عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي كَانَ يُضَعِّفُ رِوَايَتَهُمَا عَنْ عَطَاءٍ.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حاملہ عورت حائضہ نہیں ہوتی، جب وہ خون دیکھے تو نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 15437
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْمُؤَذِّنُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَةَ بْنَ الطَّيِّبِ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ يَقُولُ: قَالَ لِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ مَا: تَقُولُ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ؟ قُلْتُ: " تُصَلِّي " وَاحْتَجَجْتُ بِخَبَرِ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ: فَقَالَ لِي أَحْمَدُ: أَيْنَ أَنْتَ عَنْ خَبَرِ الْمَدَنِيِّينَ خَبَرِ أُمِّ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَإِنَّهُ أَصَحُّ قَالَ إِسْحَاقُ: فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْلِ أَحْمَدَ ⦗٦٩٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَمَّا رِوَايَةُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ رَاشِدٍ يَتَفَرَّدُ بِهَا عَنْهُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ قَالَ: هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ، وَرَوَى الْحَجَّاجُ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: إِذَا رَأَتِ الْحَامِلُ الدَّمَ فَإِنَّهَا تَتَوَضَّأُ وَتُصَلِّي وَلَا تَغْتَسِلُ وَهَذَا يُخَالِفُ رِوَايَةَ مَنْ رَوَى عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْغُسْلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: آپ حاملہ عورت کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو خون کو دیکھتی ہے؟ میں نے کہا: وہ نماز پڑھے گی اور میں نے اس خبر کو دلیل بنایا ہے جو عطاء رحمہ اللہ عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے آئی ہے، فرماتے ہیں: مجھے احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: تو کہاں (پھر رہا) ہے مدنیین کی خبر سے جو عن علقمہ رحمہ اللہ عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے آئی ہے وہ زیادہ صحیح ہے۔ اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے قول کی طرف رجوع کر لیا۔