کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: غیر مدخول بہا عورت (جس سے شوہر نے خلوتِ صحیحہ نہ کی ہو) پر کوئی عدت واجب نہ ہونے کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا} [الأحزاب: 49].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا﴾ ”جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو، پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو۔“ [سورة الأحزاب: 49]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: ٢٢٨] قَالَ: {وَاللَّائِي يَئِسْنَ} [الطلاق: ٤] مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [البقرة: ٢٣٧] {فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ} [الأحزاب: ٤٩] تَعْتَدُّونَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ [سورة البقرة: 228] اور ﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ﴾ [سورة الطلاق: 4] (کے بارے میں فرمایا:) پھر اس میں سے (کچھ حکم) منسوخ ہو گیا اور فرمایا: ﴿إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا﴾ [سورة الأحزاب: 49]۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " لَيْسَ إِلَّا نِصْفَ الْمَهْرِ وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ وَشُرَيْحٌ يَقُولُ ذَلِكَ فَهُوَ ظَاهِرُ الْكِتَابِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اس کے لیے صرف آدھا مہر ہے اور اس پر عدت نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شریح نے کہا: یہ ظاہرِ کتاب کا حکم ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شریح نے کہا: یہ ظاہرِ کتاب کا حکم ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " اللَّمْسُ وَالْمَسُّ وَالْمُبَاشَرَةُ إِلَى الْجِمَاعِ مَا هُوَ وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَنَّى عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «لَمْس» سے مراد جماع و مباشرت ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سے کنایہ کیا ہے۔