کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس عورت کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جس سے خلوت (ہم بستری) نہ کی گئی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَابْنُ يَحْيَى وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ قَالَا: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ سُئِلُوا عَنِ الْبِكْرِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا فَكُلُّهُمْ قَالُوا: " لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ أَنَّهُ شَهِدَ هَذِهِ الْقِصَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ایاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کنواری لڑکی کے بارے میں پوچھا گیا جسے اس کا خاوند تین طلاقیں دے دے، تو سب نے فرمایا کہ یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں جب تک وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15083
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
يَعْنِي كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: فَجَاءَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ؟ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِنَّ هَذَا أَمْرٌ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ، اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَإِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا، فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَاءَتْكَ مُعْضِلَةٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ " حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن ابی عیاش انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن زبیر اور عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں کے پاس محمد بن ایاس بن بکیر رحمہ اللہ آئے، انہوں نے کہا کہ ایک دیہاتی شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تم دونوں کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے، آپ عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس جائیں جن کو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کے آیا ہوں، ان سے سوال کرنے کے بعد ہمیں بھی خبر دینا۔ تو محمد بن ایاس بن بکیر رحمہ اللہ نے ان سے جا کر پوچھا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں فتویٰ دو، آپ کے پاس مشکل مسئلہ آیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ایک طلاق بیوی کو جدا کر دیتی ہے اور تین طلاقیں حرام کر دیتی ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح فرمایا، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15084
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 1206»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ، أَنَّهُ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ وَابْنَ الزُّبَيْرِ بِأَعْرَابِيٍّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ فَقَالَ: وَتَابَعَتْهُمَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ⦗٥٨٢⦘ هَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَيْنَاهُ فِي مَسْأَلَةِ طَلَاقِ الثَّلَاثِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن ابی عیاش، محمد بن ایاس بن بکیر سے نقل فرماتے ہیں کہ عاصم بن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک دیہاتی کو لایا گیا جس نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، اس نے مالک کی حدیث کے ہم معنیٰ ذکر کیا ہے اور اس میں کچھ اضافہ کیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان دونوں کی موافقت کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15085
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَعَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " هِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ يَعْنِي فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ زَوْجَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا " فَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ إِذَا فَرَّقَهُنَّ فَلَا يَكُونُ مُخَالِفًا لِمَا قَبْلَهُ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ مَعَ مَا مَضَى مَا.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ، عکرمہ، عطاء، طاؤس اور جابر بن زید سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سب نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا، فرماتے ہیں: ”یہ ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے“، یعنی ایسا شخص جو دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے تو احتمال ہے کہ اس سے مراد جدا کرنا ہو، تو یہ پہلی حدیث کے مخالف نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15086
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: " عُقْدَةٌ كَانَتْ بِيَدِهِ أَرْسَلَهَا جَمِيعًا وَإِذَا كَانَ تَتْرَى فَلَيْسَ بِشَيْءٍ " قَالَ سُفْيَانُ: تَتْرَى يَعْنِي أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، فَإِنَّهَا تَبِينُ بِالْأُولَى وَالثِّنْتَانِ لَيْسَتَا بِشَيْءٍ، وَحَكَى الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ الْعِرَاقِيِّينَ أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي يُوسُفَ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ فَالتَّطْلِيقَةُ الْأُولَى وَلَمْ تَقَعْ عَلَيْهَا الْبَاقِيَتَانِ، هَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ بَلَغَنَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَإِبْرَاهِيمَ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، فرماتے ہیں: یہ اس کا اختیار تھا جو اس نے استعمال کر لیا اور جب اس کے بعد طلاق دیتا ہے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔
سفیان کہتے ہیں: «تَتْرَىٰ» یعنی تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو پہلی طلاق جدا کر دینے والی ہے اور باقی دو کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ، ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے متعلق نقل فرماتے ہیں جو دخول سے پہلے اپنی بیوی کو کہہ دیتا ہے: تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، تو پہلی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور باقی دو طلاقیں واقع نہیں ہوتیں، یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15087
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا: أَنْتِ طَالِقٌ، ثُمَّ أَنْتِ طَالِقٌ، ثُمَّ أَنْتِ طَالِقٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: " أَتُطَلَّقُ الْمَرْأَةُ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ؟ قَدْ بَانَتْ مِنْ حِينَ طَلَّقَهَا التَّطْلِيقَةَ الْأُولَى " قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مَعْنَى.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث رحمہ اللہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو کہہ دیا: تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق۔ ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کیا وہ عام راستے پر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے؟ پہلی طلاق کے ساتھ ہی بیوی جدا ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15088
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مَعْنَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنا الْعَبَّاسُ بْنُ ⦗٥٨٣⦘ الْفَضْلِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَرْقَمِ قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " طَلَاقُ الَّتِي لَمْ يُدْخَلْ بِهَا وَاحِدَةٌ " وَهَذَا مُرْسَلٌ وَرَاوِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَيُحْتَمَلُ إِنْ صَحَّ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ أَنَّ طَلَاقَهَا وَطَلَاقَ الْمَدْخُولِ بِهَا وَاحِدٌ كَمَا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَحَدِيثُ أَبِي الصَّهْبَاءِ فِي سُؤَالِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ مَضَى وَمَضَى الْكَلَامُ عَلَيْهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسی عورت کی طلاق جس کے ساتھ دخول نہیں کیا گیا ایک ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15089
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»