حدیث نمبر: 15090
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَهِيَ طَالِقٌ فَتَفْعَلُهُ قَالَ: " هِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی سے کہا: اگر اس نے یہ اور یہ کام کیا تو اسے طلاق۔ وہ یہ کام کر لیتی ہے تو فرماتے ہیں: اس کو ایک طلاق ہوگی اور خاوند رجوع کا حق رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 15091
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: هِيَ طَالِقٌ إِلَى سَنَةٍ قَالَ: " هِيَ امْرَأَتُهُ يَسْتَمْتِعُ مِنْهَا إِلَى سَنَةٍ " وَرُوِيَ مِثْلُ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَبِهِ قَالَ عَطَاءٌ وَجَابِرُ بْنُ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں بیان کرتے ہیں جو اپنی بیوی سے کہتا ہے: ایک سال کے بعد اسے طلاق۔ فرماتے ہیں: یہ اس کی بیوی ہے، ایک سال تک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 15092
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا الْحَسَنُ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا إِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ قَالَ: " هِيَ امْرَأَتُهُ يَوْمَ طَلَّقَهَا حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ ".
حافظ ثناء اللہ
جابر رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی سے کہا: جب رمضان شروع ہو گیا تو تجھے طلاق۔ فرماتے ہیں: یہ اس کی بیوی ہی رہے گی جس دن اس نے طلاق دی یہاں تک کہ رمضان شروع ہو جائے۔
حدیث نمبر: 15093
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ خَرَجْتِ حَتَّى اللَّيْلِ فَخَرَجَتِ امْرَأَتُهُ أَوْ قَالَ ذَلِكَ ⦗٥٨٤⦘ فِي غُلَامِهِ: فَخَرَجَ غُلَامُهُ قَبْلَ اللَّيْلِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ طُلِّقَتِ امْرَأَتُهُ وَعَتَقَ غُلَامُهُ لِأَنَّهُ تَرَكَ أَنْ يَسْتَثْنِيَ لَوْ شَاءَ قَالَ: بِإِذْنِي وَلَكِنَّهُ فَرَّطَ فِي الِاسْتِثْنَاءِ فَإِنَّمَا يُجْعَلُ تَفْرِيطُهُ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: اگر تو رات تک گھر سے نکلی تو تجھے طلاق، تو اس کی بیوی گھر سے باہر چلی گئی یا اس نے اپنے غلام کے بارے میں کہا تو غلام رات سے پہلے بغیر بتائے چلا گیا تو عورت کو طلاق ہو جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا؛ کیونکہ اس نے استثناء کو چھوڑ دیا ہے، اس نے استثناء میں کوتاہی کی ہے تو اس کے ذمہ کوتاہی کو لگا دیا گیا۔