السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في طلاق التي لم يدخل بها باب: اس عورت کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جس سے خلوت (ہم بستری) نہ کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 15086
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَعَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " هِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ يَعْنِي فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ زَوْجَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا " فَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ إِذَا فَرَّقَهُنَّ فَلَا يَكُونُ مُخَالِفًا لِمَا قَبْلَهُ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ مَعَ مَا مَضَى مَا.حافظ ثناء اللہ
قتادہ، عکرمہ، عطاء، طاؤس اور جابر بن زید سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سب نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا، فرماتے ہیں: ”یہ ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے“، یعنی ایسا شخص جو دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے تو احتمال ہے کہ اس سے مراد جدا کرنا ہو، تو یہ پہلی حدیث کے مخالف نہیں ہے۔