حدیث نمبر: 15084
يَعْنِي كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: فَجَاءَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ؟ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِنَّ هَذَا أَمْرٌ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ، اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَإِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا، فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَاءَتْكَ مُعْضِلَةٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ " حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

معاویہ بن ابی عیاش انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن زبیر اور عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں کے پاس محمد بن ایاس بن بکیر رحمہ اللہ آئے، انہوں نے کہا کہ ایک دیہاتی شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تم دونوں کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے، آپ عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس جائیں جن کو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کے آیا ہوں، ان سے سوال کرنے کے بعد ہمیں بھی خبر دینا۔ تو محمد بن ایاس بن بکیر رحمہ اللہ نے ان سے جا کر پوچھا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں فتویٰ دو، آپ کے پاس مشکل مسئلہ آیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ایک طلاق بیوی کو جدا کر دیتی ہے اور تین طلاقیں حرام کر دیتی ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح فرمایا، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15084
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 1206»