السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في طلاق التي لم يدخل بها باب: اس عورت کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جس سے خلوت (ہم بستری) نہ کی گئی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: " عُقْدَةٌ كَانَتْ بِيَدِهِ أَرْسَلَهَا جَمِيعًا وَإِذَا كَانَ تَتْرَى فَلَيْسَ بِشَيْءٍ " قَالَ سُفْيَانُ: تَتْرَى يَعْنِي أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، فَإِنَّهَا تَبِينُ بِالْأُولَى وَالثِّنْتَانِ لَيْسَتَا بِشَيْءٍ، وَحَكَى الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ الْعِرَاقِيِّينَ أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي يُوسُفَ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ فَالتَّطْلِيقَةُ الْأُولَى وَلَمْ تَقَعْ عَلَيْهَا الْبَاقِيَتَانِ، هَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ بَلَغَنَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَإِبْرَاهِيمَ بِذَلِكَ.شعبی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، فرماتے ہیں: یہ اس کا اختیار تھا جو اس نے استعمال کر لیا اور جب اس کے بعد طلاق دیتا ہے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔
سفیان کہتے ہیں: «تَتْرَىٰ» یعنی تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو پہلی طلاق جدا کر دینے والی ہے اور باقی دو کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ، ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے متعلق نقل فرماتے ہیں جو دخول سے پہلے اپنی بیوی کو کہہ دیتا ہے: تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، تو پہلی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور باقی دو طلاقیں واقع نہیں ہوتیں، یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے۔