کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ خلع لینے والی عورت کو (بعد میں) طلاق لاحق نہیں ہوتی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمَا قَالَا: فِي الْمُخْتَلِعَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا قَالَا: " لَا يَلْزَمُهَا طَلَاقٌ لِأَنَّهُ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ، عبداللہ بن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ دونوں نے اس خلع کرنے والی عورت کے بارے میں فرمایا جسے اس کا خاوند (خلع کے بعد) طلاق دے دے: اس پر طلاق لازم نہیں ہوتی؛ کیونکہ اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک ہی نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ ⦗٥١٩⦘ رَحِمَهُ اللهُ: فَسَأَلْتُهُ يَعْنِي بَعْضَ مَنْ يُخَالِفُهُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ هَلْ يَرْوِي فِي قَوْلِهِ خَبَرًا قَالَ: فَذَكَرَ حَدِيثًا لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ عِنْدَنَا وَلَا عِنْدَهُ فَقُلْتُ: هَذَا عِنْدَنَا وَعِنْدَكَ غَيْرُ ثَابِتٍ قَالَ: فَقَدْ قَالَ بِهِ بَعْضُ التَّابِعِينَ سَمَّاهُمَا فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْتُ لَهُ وَقَوْلُ بَعْضِ التَّابِعِينَ عِنْدَكَ لَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ لَوْ لَمْ يُخَالِفْهُمْ غَيْرُهُمْ، قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْخَبَرُ الَّذِي ذُكِرَ لَهُ فَلَمْ يَقَعْ لَنَا إِسْنَادُهُ بَعْدُ لِنَنْظُرَ فِيهِ، وَقَدْ طَلَبْتُهُ مِنْ كُتُبٍ كَثِيرَةٍ صُنِّفَتْ فِي الْحَدِيثِ فَلَمْ أَجِدْهُ، وَلَعَلَّهُ أَرَادَ مَا رُوِيَ عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، بِإِسْنَادِهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مِنْ قَوْلِهِ، وَفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ أَوْ مَا رُوِيَ عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ وَضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس سے، یعنی اس مسئلہ میں ان سے اختلاف کرنے والے ایک شخص سے، پوچھا کہ کیا وہ اپنے قول کی تائید میں کوئی روایت بیان کرتا ہے؟ تو اس نے ایک ایسی حدیث ذکر کی جس جیسی روایت سے نہ ہمارے نزدیک دلیل قائم ہوتی ہے نہ اس کے نزدیک۔ میں نے کہا: یہ روایت ہمارے اور تمہارے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ اس نے کہا: بعض تابعین نے یہی کہا ہے، (امام شافعی رحمہ اللہ نے) کتاب القضاء بالیمین مع الشاہد میں ان دونوں کے نام لیے ہیں: شعبی اور ابراہیم نخعی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس سے کہا: بعض تابعین کے قول سے تو تمہارے نزدیک بھی دلیل قائم نہیں ہوتی، اگرچہ دوسرے ان کی مخالفت نہ بھی کریں۔
شیخ (بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: جو روایت اس کے سامنے ذکر کی گئی اس کی سند ابھی تک ہمیں نہیں ملی کہ ہم اس پر غور کریں، میں نے اسے حدیث کی بہت سی کتابوں میں تلاش کیا لیکن نہیں پایا۔ شاید اس کی مراد وہ روایت ہو جو فرج بن فضالہ سے ان کی سند کے ساتھ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر مروی ہے، اور فرج بن فضالہ حدیث میں ضعیف ہیں، یا وہ روایت جو ایک مجہول شخص سے، ضحاک بن مزاحم سے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر مروی ہے، اور وہ منقطع اور ضعیف ہے۔
شیخ (بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: جو روایت اس کے سامنے ذکر کی گئی اس کی سند ابھی تک ہمیں نہیں ملی کہ ہم اس پر غور کریں، میں نے اسے حدیث کی بہت سی کتابوں میں تلاش کیا لیکن نہیں پایا۔ شاید اس کی مراد وہ روایت ہو جو فرج بن فضالہ سے ان کی سند کے ساتھ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر مروی ہے، اور فرج بن فضالہ حدیث میں ضعیف ہیں، یا وہ روایت جو ایک مجہول شخص سے، ضحاک بن مزاحم سے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر مروی ہے، اور وہ منقطع اور ضعیف ہے۔