السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: المختلعة لا يلحقها الطلاق باب: اس بیان میں کہ خلع لینے والی عورت کو (بعد میں) طلاق لاحق نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 14866
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمَا قَالَا: فِي الْمُخْتَلِعَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا قَالَا: " لَا يَلْزَمُهَا طَلَاقٌ لِأَنَّهُ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ، عبداللہ بن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ دونوں نے فرمایا: خلع کرنے والی عورت ایسے ہے جیسے اس کو خاوند طلاق دیتا ہے، تو خلع کے بعد طلاق دینا لازم نہیں ہے؛ کیونکہ جس کو طلاق دینا چاہتا ہے اس کا مالک ہی نہیں۔