کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: خلع، کیا یہ فسخِ نکاح ہے یا طلاق؟ اس کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَأَلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلَاقَ فِي أَوَّلِ الْآيَةِ وَآخِرِهَا وَالْخُلْعَ بَيْنَ ذَلِكَ فَلَيْسَ الْخُلْعُ بِطَلَاقٍ، يَنْكِحُهَا " وَرَوَاهُ أَيْضًا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا، وَرَوَى الشَّافِعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ أَجَازَهُ الْمَالُ فَلَيْسَ بِطَلَاقٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا جس کو خاوند نے دو طلاقیں دے دیں، پھر عورت نے خاوند سے خلع کر لیا تو کیا خاوند اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی آیت میں اللہ نے طلاق کا ذکر کیا اور اس کے آخر میں اور درمیان میں خلع کا تذکرہ ہے، تو خلع طلاق نہیں ہے، وہ نکاح کر سکتا ہے۔
(ب) عمرو رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: ہر وہ چیز جو مال کے ذریعے حلال ہو وہ طلاق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14863
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُمْهَانَ، مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ عَنْ أُمِّ بَكْرَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ، أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَبْدِ اللهِ بْنِ أُسَيْدٍ ثُمَّ أَتَيَا عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: " هِيَ تَطْلِيقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سَمَّيْتَ شَيْئًا فَهُوَ مَا سَمَّيْتَ " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ لَمْ يَثْبُتْ إِسْنَادُهُ، وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَضَعَّفَ أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ حَدِيثَ عُثْمَانَ، وَحَدِيثُ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي إِسْنَادِهِمَا مَقَالٌ، وَلَيْسَ فِي الْبَابِ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ يُرِيدُ حَدِيثَ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
ام بکرہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند عبداللہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے خلع کیا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق ہے، مگر جس کا آپ نے نام لیا وہی ہوگا۔“
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی روایت کی گئی ہے جس کی سند ثابت نہیں، اور اس بارے میں حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ ابن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ والی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، اور حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی روایات کی سندوں میں کلام ہے، اور اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں، یعنی طاؤس کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14864
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْهَرَوِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا حَاجًّا نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ، نا أَبُو عِصَامٍ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ الْخُلْعَ تَطْلِيقَةً بَائِنَةً " تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَتَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَكَيْفَ يَصِحُّ ذَلِكَ وَمَذْهَبُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعِكْرِمَةَ بِخِلَافِهِ عَلَى أَنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ إِذَا نَوَى بِهِ طَلَاقًا أَوْ ذَكَرَهُ وَالْمَقْصُودُ مِنْهُ قَطْعُ الرَّجْعَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”خلع کو طلاق بائنہ شمار کیا ہے“۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عباد بن کثیر بصری منفرد ہیں، جنہیں امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور امام بخاری رحمہم اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے اور شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ نے ان پر کلام کیا ہے۔ یہ روایت کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عکرمہ رحمہ اللہ کا مذہب اس کے خلاف ہے؟ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ صورت ہو جب وہ خلع سے طلاق کی نیت کرے یا طلاق کا ذکر کرے اور مقصد رجوع کا حق ختم کرنا ہو، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14865
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»