کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو کسی عورت سے اس (عورت) کے فیصلے پر (مہر مقرر کرنے کی شرط کے ساتھ) نکاح کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، صَحِبَ رَجُلًا فَرَأَى امْرَأَتَهُ فَأَعْجَبَتْهُ فَتُوُفِّيَ فِي الطَّرِيقِ فَخَطَبَهَا الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَأَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَهُ إِلَّا عَلَى حُكْمِهَا فَتَزَوَّجَهَا عَلَى حُكْمِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ تَحْكُمَ، فَقَالَ احْكُمِي فَقَالَتْ: أُحَكِّمُ فُلَانًا وَفُلَانًا، رَقِيقٌ كَانُوا لِأَبِيهِ مِنْ تِلَادِهِ فَقَالَ: احْكُمِي غَيْرَ هَؤُلَاءِ فَأَبَتْ فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَجَزْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: مَا هُنَّ قَالَ: عَشِقْتُ امْرَأَةً قَالَ: هَذَا مَا لَمْ تَمْلِكْ قَالَ: ثُمَّ تَزَوَّجْتُهَا عَلَى حُكْمِهَا ثُمَّ طَلَّقْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَحْكُمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهَا مَهْرُ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَيَعْنِي مِنْ نِسَائِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ایک مرد کے ساتھ چلے تو انھیں اس شخص کی عورت بڑی پسند آئی۔ وہ آدمی راستے میں فوت ہو گیا تو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے عورت کو نکاح کا پیغام دیا، لیکن عورت نے انکار کر دیا کہ وہ صرف اپنے فیصلے پر ہی اس سے شادی کرے گی تو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے فیصلے کے مطابق شادی کر لی۔ پھر اشعث رضی اللہ عنہ نے فیصلے سے پہلے ہی طلاق دے دی اور کہنے لگے: اپنا فیصلہ بتاؤ۔
تو اس عورت نے کہا: میں فلاں فلاں غلام کا فیصلہ کرتی ہوں جو ان کے باپ کے موروثی غلام ہیں، اس نے کہا: ان کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرو۔ اس عورت نے انکار کر دیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے امیر المومنین! میں تین مرتبہ عاجز آگیا۔ تو انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ کہنے لگے: میں نے ایک عورت سے عشق کیا۔ فرمانے لگے: یہ وہ چیز ہے جس کا تو مالک نہیں تھا۔ اس نے کہا: پھر میں نے اس کے فیصلے پر شادی کر لی، پھر اس کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مسلمان عورت ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ اس کے لیے مسلمان عورتوں والا حق مہر ہے، یعنی اس کے قبیلے کی عورتوں جیسا۔
تو اس عورت نے کہا: میں فلاں فلاں غلام کا فیصلہ کرتی ہوں جو ان کے باپ کے موروثی غلام ہیں، اس نے کہا: ان کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرو۔ اس عورت نے انکار کر دیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے امیر المومنین! میں تین مرتبہ عاجز آگیا۔ تو انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ کہنے لگے: میں نے ایک عورت سے عشق کیا۔ فرمانے لگے: یہ وہ چیز ہے جس کا تو مالک نہیں تھا۔ اس نے کہا: پھر میں نے اس کے فیصلے پر شادی کر لی، پھر اس کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مسلمان عورت ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ اس کے لیے مسلمان عورتوں والا حق مہر ہے، یعنی اس کے قبیلے کی عورتوں جیسا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَشِقَهَا عَلَى حُكْمِهَا فَاحْتَكَمَتْ عَلَيْهِ مَمْلُوكَيْنِ لَهُ فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: عَشِقْتُ امْرَأَةً قَالَ: ذَاكَ مِمَّا لَمْ تَمْلِكْ قَالَ: جَعَلْتُ لَهَا حُكْمَهَا قَالَ: " حُكْمُهَا لَيْسَ بِشَيْءٍ، لَهَا سُنَّةُ نِسَائِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے عشق کرتے ہوئے اس کے فیصلے کے مطابق شادی کر لی، تو اس عورت نے ان کے ذمہ دو غلام ڈال دیے، تو اشعث رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں نے عشق کی وجہ سے عورت سے شادی کی، انہوں نے فرمایا: یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کا تو مالک نہیں۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے اس کے حکم کو مانا جو لاگو کیا ہوا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے لیے کچھ نہیں سوائے اس کے قبیلے کی عورتوں کے حقِ مہر کے۔