حدیث نمبر: 14426
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، صَحِبَ رَجُلًا فَرَأَى امْرَأَتَهُ فَأَعْجَبَتْهُ فَتُوُفِّيَ فِي الطَّرِيقِ فَخَطَبَهَا الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَأَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَهُ إِلَّا عَلَى حُكْمِهَا فَتَزَوَّجَهَا عَلَى حُكْمِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ تَحْكُمَ، فَقَالَ احْكُمِي فَقَالَتْ: أُحَكِّمُ فُلَانًا وَفُلَانًا، رَقِيقٌ كَانُوا لِأَبِيهِ مِنْ تِلَادِهِ فَقَالَ: احْكُمِي غَيْرَ هَؤُلَاءِ فَأَبَتْ فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَجَزْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: مَا هُنَّ قَالَ: عَشِقْتُ امْرَأَةً قَالَ: هَذَا مَا لَمْ تَمْلِكْ قَالَ: ثُمَّ تَزَوَّجْتُهَا عَلَى حُكْمِهَا ثُمَّ طَلَّقْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَحْكُمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهَا مَهْرُ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَيَعْنِي مِنْ نِسَائِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ایک مرد کے ساتھ چلے تو انھیں اس شخص کی عورت بڑی پسند آئی۔ وہ آدمی راستے میں فوت ہو گیا تو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے عورت کو نکاح کا پیغام دیا، لیکن عورت نے انکار کر دیا، لیکن وہ اس کے فیصلے پر اس سے شادی کر سکتی ہے تو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے فیصلے کے مطابق شادی کر لی۔ پھر اشعث رضی اللہ عنہ نے فیصلے سے پہلے ہی طلاق دے دی اور کہنے لگے: میرے فیصلے کو مانو۔
تو اس عورت نے کہا: میں فلاں فلاں غلام کو فیصل بناتی ہوں جو ان کے باپ کے موروثی غلام ہیں، اس نے کہا: ان کے علاوہ کسی اور کو فیصل بناؤ۔ اس عورت نے انکار کر دیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور تین مرتبہ فرمایا کہ میں عاجز آگیا۔ تو انہوں نے پوچھا: کس چیز سے؟ کہنے لگے: میں نے ایک عورت سے عشق کیا۔ فرمانے لگے کہ تو اس کا مالک نہیں تھا۔ اس نے کہا: نہیں، پھر میں نے اس کے فیصلے پر شادی کر لی، پھر اس کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مسلمان عورت ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے لیے مسلمان عورتوں والا حق مہر ہے، یعنی اس کے قبیلے کی عورتوں جیسا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14426
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»