کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں عورت (بیوی) کے پاس جانے (ہم بستری کرنے) کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: حائضہ عورت کے پاس جانے کے متعلق بیان۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: 222].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ ”پس حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔“ [سورة البقرة: 222]
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَسْأَلُهَا هَلْ يُبَاشِرُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ؟ فَقَالَتْ: " لِتُشْدِدْ ⦗٣٠٩⦘ عَلَيْهَا إِزَارَهَا عَلَى أَسْفَلِهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا إِنْ شَاءَ " هَذَا مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِيَ مُرْسَلًا وَمَوْصُولًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ کیا مرد اپنی عورت سے حالتِ حیض میں مباشرت کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنا لنگوٹ نچلے حصے پر کس لے، پھر وہ اس سے مباشرت کر سکتا ہے اگر چاہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لِي مِنِ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِتَشُدَّ عَلَيْهَا إِزَارَهَا ثُمَّ شَأْنُكَ بِأَعْلَاهَا "، هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: جب میری بیوی حائضہ ہو تو میرے لیے اس سے کیا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنے نچلے حصہ پر مضبوطی سے لنگوٹ باندھ لے، پھر اوپر والے حصہ سے تیری جو حالت ہو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ؟ يَعْنِي الْحَائِضَ قَالَ: " مَا فَوْقَ الْإِزَارِ "، هَذَا مَوْصُولٌ وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ فِيهِ طَرِيقَيْنِ آخَرَيْنِ وَهُمَا يُؤَكِّدَانِ هَذِهِ الرِّوَايَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ جب عورت حائضہ ہو تو مرد کے لیے کیا جائز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو لنگوٹ سے اوپر ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِيَادِيُّ الْمَالِكِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ النَّصِيبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ، فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا شَأْنُكِ؟ "، فَقُلْتُ: حِضْتُ قَالَ: " شُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكِ، ثُمَّ ادْخُلِي ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک لحاف میں تھیں، میں چپکے سے نکل گئی تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ میں نے کہا: میں حیض والی ہوگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ازار باندھ لو، پھر داخل ہوجاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الطَّاهِرِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ مَاسِي، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا فَأْتَزَرَتْ " ⦗٣١٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَقَدْ ذَكَرْنَا سَائِرَ مَا رُوِيَ فِي كِتَابِ الْحَيْضِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَخَالَفَنَا بَعْضُ النَّاسِ فِي مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَإِتْيَانِهِ إِيَّاهَا وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: قَدْ رُوِّينَا خِلَافَ مَا رُوِّيتُمْ فَرُوِّينَا أَنْ يُخَلِّفَ مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ يَنَالَ مَا شَاءَ وَذَكَرَ حَدِيثًا لَا يُثْبِتُهُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ رَوَيْنَا تِلْكَ الْأَحَادِيثَ بِأَسَانِيدِهَا فِي كِتَابِ الْحَيْضِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی حائضہ عورت سے مباشرت کرنا (یعنی ساتھ لیٹنا) چاہتے تو حکم فرماتے کہ ”وہ اپنی لنگوٹ کس لے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض لوگوں نے حالتِ حیض میں مرد کے اپنی بیوی سے مباشرت کرنے اور اس کے پاس آنے کے بارے میں ہم سے اختلاف کیا اور کہا: ہم نے تمہاری روایت کے خلاف روایت کیا ہے، ہم نے یہ روایت کیا ہے کہ وہ خون والی جگہ کو چھوڑ دے پھر جو چاہے حاصل کرے، اور انہوں نے ایک ایسی حدیث ذکر کی جسے حدیث کا علم رکھنے والے ثابت نہیں مانتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض لوگوں نے حالتِ حیض میں مرد کے اپنی بیوی سے مباشرت کرنے اور اس کے پاس آنے کے بارے میں ہم سے اختلاف کیا اور کہا: ہم نے تمہاری روایت کے خلاف روایت کیا ہے، ہم نے یہ روایت کیا ہے کہ وہ خون والی جگہ کو چھوڑ دے پھر جو چاہے حاصل کرے، اور انہوں نے ایک ایسی حدیث ذکر کی جسے حدیث کا علم رکھنے والے ثابت نہیں مانتے۔