کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: یتیم بچی کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”یتیمہ سے اس کے نفس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کرے تو اس پر (نکاح) جائز نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13690
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ ⦗١٩٥⦘ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ، وَإِنْ أَنْكَرَتْ لَمْ تُكْرَهْ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یتیمہ سے اس کے نفس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش ہو تو اس کی اجازت ہے، اگر وہ انکار کر دے تو جبر نہ کیا جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13691
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ قَالَ: ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ، مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَهُمَا خَالِايَ، فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ ابْنَةَ عُثْمَانَ، فَزَوَّجَنِيهَا، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ إِلَى أُمِّهَا، فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ، فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قُدَامَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلِيَّ، فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلَاحِ وَالْكَفَاءَةِ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَإِنَّهَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ يَتِيمَةٌ، وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا"، فَانْتُزِعَتْ مِنِّي وَاللهِ بَعْدَ أَنْ مُلِّكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور خولہ بنت حکیم بن امیہ سے ایک بیٹی چھوڑی اور اپنے بھائی سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں وصیت کی اور یہ دونوں میرے ماموں تھے۔ میں نے قدامہ کی طرف شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے میری اس سے شادی کر دی اور مغیرہ اس کی ماں کی طرف گیا۔ اس نے ان کو مال کی طرف رغبت دی تو وہ لالچ میں آگئی اور لڑکی بھی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہوگئی۔ حتیٰ کہ یہ معاملہ نبی ﷺ کے پاس پہنچ گیا تو قدامہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی تو میں نے اس کی شادی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کر دی اور میں نے نیکی اور کفو (برابری) میں کوئی کمی نہیں کی، لیکن وہ ایک عورت ہے اور اپنی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہو گئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ یتیمہ ہے، لہٰذا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔“ تو وہ لڑکی مجھ سے جدا کر دی گئی، اللہ کی قسم! جبکہ میں اس کا مالک بن گیا تھا اور انہوں نے اس کی شادی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13692
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَزَوَّجَ ابْنَةَ خَالِهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ: فَذَهَبَتْ أُمُّهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي تَكْرَهُ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَارِقَهَا، وَقَالَ: " لَا تُنْكِحُوا الْيَتَامَى حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ، فَإِنْ سَكَتْنَ فَهُوَ إِذْنُهُنَّ "، فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَ عَبْدِ اللهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ماموں عثمان بن مظعون کی بیٹی سے شادی کی۔ اس کی ماں نبی ﷺ کی طرف گئی اور کہا: میری بیٹی اس کو ناپسند کرتی ہے، تو نبی ﷺ نے ان کے درمیان جدائی کروا دی اور فرمایا: ”تم یتیمہ کا نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ ان سے مشورہ کرلو۔ اگر وہ خاموشی اختیار کریں یہ ان کی رضا مندی ہے۔“ پھر عبداللہ کے بعد اس سے مغیرہ بن شعبہ نے شادی کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13693
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا بِهِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي مَوْضِعٍ آخَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَزَوَّجَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ صَاعِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ وَأَبِي عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13694
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ ⦗١٩٦⦘ سُوَيْدٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا بَلَغَ النِّسَاءُ نَصَّ الْحَقَائِقِ، فَالْعَصَبَةُ أَوْلَى، وَمَنْ شَهِدَ فَلْيَشْفَعْ بِخَيْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات دیکھی کہ جب عورتیں حقائق کو پہچاننے لگیں تو عصبہ زیادہ حق دار ہوں گے اور جو کوئی حاضر ہو وہ بہتر سفارش کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13695
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ رَحِمَهُ اللهُ بَعْضُهُمْ، يَقُولُ: " الْحَقَاقُ وَهُوَ مِنَ الْمُحَاقَّةِ يَعْنِي الْمُخَاصَمَةَ أَنْ تُحَاقَّ الْأُمُّ الْعَصَبَةَ، فِيهِنَّ فَنَصُّ الْحَقَاقِ، إِنَّمَا هُوَ الْإِدْرَاكُ؛ لِأَنَّهُ مُنْتَهَى الصِّغَرِ، فَإِذَا بَلَغَ النِّسَاءُ ذَلِكَ، فَالْعَصَبَةُ أَوْلَى بِالْمَرْأَةِ مِنْ أُمِّهَا إِذَا كَانُوا مَحْرَمًا وَيَتَزَوَّجُهَا أَيْضًا إِنْ أَرَادُوا قَالَ: وَهَذَا يُبَيِّنُ لَكَ أَنَّ الْعَصَبَةَ وَالْأَوْلِيَاءَ غَيْرَ الْآبَاءِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يُزَوِّجُوا الْيَتِيمَةَ حَتَّى تُدْرِكَ، وَلَوْ كَانَ لَهُمْ ذَاكَ لَمْ يَنْتَظِرُوا بِهَا نَصَّ الْحَقَاقِ قَالَ: وَمَنْ رَوَاهُ نَصَّ الْحَقَائِقِ فَإِنَّهُ أَرَادَ جَمْعَ حَقِيقَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ «الْحِقَاقُ» کہتے ہیں اور یہ «الْمُحَاقَّةُ» سے ہے یعنی جھگڑنا، کہ ماں لڑکیوں کے بارے میں عصبہ سے جھگڑے۔ تو «نَصُّ الْحِقَاقِ» سے مراد صرف ادراک (یعنی بالغ ہونا) ہے اور وہ بچپن کی انتہا ہے۔ جب عورتیں بالغ ہو جائیں تو عورت کے عصبہ اس کی ماں سے زیادہ اولیٰ ہیں، جب وہ محرم رشتہ دار ہوں۔ اسی طرح اگر وہ چاہیں تو اس کی شادی کر دیں اور کہا کہ یہ تیرے لیے کھلا اور واضح بیان ہے کہ عصبہ رشتہ دار اولیاء، جو باپوں کے علاوہ ہیں، وہ یتیم بچی کی شادی ادراک (یعنی بالغ ہونے) سے پہلے نہ کریں۔ اگر ان کے لیے یہ حق ہوتا تو وہ اس کے بارے میں «نَصُّ الْحِقَاقِ» کا انتظار نہ کرتے، اور جس نے «نَصُّ الْحَقَائِقِ» کو بیان کیا ہے تو اس کی مراد حقیقت کی جمع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13696
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ، ⦗١٩٧⦘ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَارَةَ بِنْتِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَتْ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي عُمْرَةِ الْقَضِيَّةِ خَرَجَ بِهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجْهَا "، فَقَالَ: ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَمَةَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " هَلْ جُزِيتَ سَلَمَةَ "، هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهَا كَانَتْ صَغِيرَةً وَلِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَابِ النِّكَاحِ مَا لَيْسَ لِغَيْرِهِ وَكَانَ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَبِذَلِكَ تَوَلَّى تَزْوِيجَهَا دُونَ عَمِّهَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنْ كَانَ فَعَلَ ذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمارہ بنت حمزہ بن عبدالمطلب مکہ میں تھیں اور رسول اللہ ﷺ عمرہ قضا کے لیے تشریف لائے۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اس کو لے کر آئے اور نبی ﷺ سے کہا: ان سے شادی کرلو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی کی رضاعی بیٹی ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی شادی سلمہ بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے کردی۔ نبی ﷺ کہا کرتے تھے: ”کیا میں نے سلمہ کو (اچھا) بدلہ دے دیا۔“
یہ سند ضعیف ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ وہ چھوٹی تھیں۔ نکاح کے معاملے میں نبی ﷺ کو وہ اختیار حاصل تھا جو دوسروں کو نہیں، اور آپ ﷺ مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے تھے، اسی بنا پر آپ ﷺ نے ان کے چچا عباس بن عبدالمطلب کے بجائے خود ان کا نکاح کروایا، اگر آپ ﷺ نے ایسا کیا ہو۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13697
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»