حدیث نمبر: 13692
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ قَالَ: ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ، مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَهُمَا خَالِايَ، فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ ابْنَةَ عُثْمَانَ، فَزَوَّجَنِيهَا، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ إِلَى أُمِّهَا، فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ، فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قُدَامَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلِيَّ، فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلَاحِ وَالْكَفَاءَةِ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَإِنَّهَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ يَتِيمَةٌ، وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا"، فَانْتُزِعَتْ مِنِّي وَاللهِ بَعْدَ أَنْ مُلِّكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور ایک بیٹی جو خولہ بنت حکیم بن امیہ تھی وہ چھوڑی اور اپنے بھائی سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں وصیت کی اور یہ دونوں میرے خالہ زاد بھائی تھے۔ میں نے قدامہ کی طرف شادی کا پیغام بھیجا کہ میری اس سے شادی کر دو اور مغیرہ اس کی ماں کی طرف گیا۔ اس نے ان کو مال کی طرف رغبت دی تو وہ لالچ میں آگئی اور لڑکی بھی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہوگئی۔ حتیٰ کہ یہ معاملہ نبی ﷺ کے پاس پہنچ گیا تو قدامہ نے کہا: یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور اس نے مجھے وصیت کی تھی اور میں اس کی شادی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کروں گا اور میں نے اس کی اصلاح اور سرپرستی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن وہ عورت لالچ میں آگئی اور لڑکی بھی ماں کی طرف دار ہوگئی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ یتیمہ ہے، لہٰذا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔“ تو وہ لڑکی مجھ سے جدا کر دی گئی، اللہ کی قسم! جبکہ میں اس کا مالک بن گیا تھا اور انہوں نے اس کی شادی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13692
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»