السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح اليتيمة باب: یتیم بچی کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ قَالَ: ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ، مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَهُمَا خَالِايَ، فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ ابْنَةَ عُثْمَانَ، فَزَوَّجَنِيهَا، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ إِلَى أُمِّهَا، فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ، فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قُدَامَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلِيَّ، فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلَاحِ وَالْكَفَاءَةِ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَإِنَّهَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ يَتِيمَةٌ، وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا"، فَانْتُزِعَتْ مِنِّي وَاللهِ بَعْدَ أَنْ مُلِّكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ".سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور خولہ بنت حکیم بن امیہ سے ایک بیٹی چھوڑی اور اپنے بھائی سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں وصیت کی اور یہ دونوں میرے ماموں تھے۔ میں نے قدامہ کی طرف شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے میری اس سے شادی کر دی اور مغیرہ اس کی ماں کی طرف گیا۔ اس نے ان کو مال کی طرف رغبت دی تو وہ لالچ میں آگئی اور لڑکی بھی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہوگئی۔ حتیٰ کہ یہ معاملہ نبی ﷺ کے پاس پہنچ گیا تو قدامہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی تو میں نے اس کی شادی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کر دی اور میں نے نیکی اور کفو (برابری) میں کوئی کمی نہیں کی، لیکن وہ ایک عورت ہے اور اپنی ماں کی خواہش کی طرف مائل ہو گئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ یتیمہ ہے، لہٰذا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔“ تو وہ لڑکی مجھ سے جدا کر دی گئی، اللہ کی قسم! جبکہ میں اس کا مالک بن گیا تھا اور انہوں نے اس کی شادی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دی۔