السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح اليتيمة باب: یتیم بچی کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ رَحِمَهُ اللهُ بَعْضُهُمْ، يَقُولُ: " الْحَقَاقُ وَهُوَ مِنَ الْمُحَاقَّةِ يَعْنِي الْمُخَاصَمَةَ أَنْ تُحَاقَّ الْأُمُّ الْعَصَبَةَ، فِيهِنَّ فَنَصُّ الْحَقَاقِ، إِنَّمَا هُوَ الْإِدْرَاكُ؛ لِأَنَّهُ مُنْتَهَى الصِّغَرِ، فَإِذَا بَلَغَ النِّسَاءُ ذَلِكَ، فَالْعَصَبَةُ أَوْلَى بِالْمَرْأَةِ مِنْ أُمِّهَا إِذَا كَانُوا مَحْرَمًا وَيَتَزَوَّجُهَا أَيْضًا إِنْ أَرَادُوا قَالَ: وَهَذَا يُبَيِّنُ لَكَ أَنَّ الْعَصَبَةَ وَالْأَوْلِيَاءَ غَيْرَ الْآبَاءِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يُزَوِّجُوا الْيَتِيمَةَ حَتَّى تُدْرِكَ، وَلَوْ كَانَ لَهُمْ ذَاكَ لَمْ يَنْتَظِرُوا بِهَا نَصَّ الْحَقَاقِ قَالَ: وَمَنْ رَوَاهُ نَصَّ الْحَقَائِقِ فَإِنَّهُ أَرَادَ جَمْعَ حَقِيقَةٍ ".ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ «الْحِقَاقُ» کہتے ہیں اور یہ «الْمُحَاقَّةُ» سے ہے یعنی جھگڑنا، کہ ماں لڑکیوں کے بارے میں عصبہ سے جھگڑے۔ تو «نَصُّ الْحِقَاقِ» سے مراد صرف ادراک (یعنی بالغ ہونا) ہے اور وہ بچپن کی انتہا ہے۔ جب عورتیں بالغ ہو جائیں تو عورت کے عصبہ اس کی ماں سے زیادہ اولیٰ ہیں، جب وہ محرم رشتہ دار ہوں۔ اسی طرح اگر وہ چاہیں تو اس کی شادی کر دیں اور کہا کہ یہ تیرے لیے کھلا اور واضح بیان ہے کہ عصبہ رشتہ دار اولیاء، جو باپوں کے علاوہ ہیں، وہ یتیم بچی کی شادی ادراک (یعنی بالغ ہونے) سے پہلے نہ کریں۔ اگر ان کے لیے یہ حق ہوتا تو وہ اس کے بارے میں «نَصُّ الْحِقَاقِ» کا انتظار نہ کرتے، اور جس نے «نَصُّ الْحَقَائِقِ» کو بیان کیا ہے تو اس کی مراد حقیقت کی جمع ہے۔