السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح اليتيمة باب: یتیم بچی کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13693
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَزَوَّجَ ابْنَةَ خَالِهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ: فَذَهَبَتْ أُمُّهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي تَكْرَهُ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَارِقَهَا، وَقَالَ: " لَا تُنْكِحُوا الْيَتَامَى حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ، فَإِنْ سَكَتْنَ فَهُوَ إِذْنُهُنَّ "، فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَ عَبْدِ اللهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کی۔ اس کی ماں نبی ﷺ کی طرف گئی اور کہا: میری بیٹی اس کو ناپسند کرتی ہے، تو نبی ﷺ نے ان کے درمیان جدائی کروا دی: ”تم یتیمہ کا نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ ان سے مشورہ کرلو۔ اگر وہ خاموشی اختیار کریں یہ ان کی رضا مندی ہے۔“ پھر اس نے اس کے بعد عبداللہ بن مغیرہ بن شعبہ سے شادی کی۔