أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ، فَتَصَدَّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ، فَأَهْدَى الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی غنی کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے مگر پانچ کے لیے: مجاہد فی سبیل اللہ، عامل، چٹی دینے والا، مشتری، ایسا آدمی جس کا پڑوسی مسکین ہو اور اسے صدقہ ملے پھر وہ اپنے پڑوسی کو ہدیہ کر دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، إِلَّا فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوِ ابْنِ السَّبِيلِ أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ، فَيُهْدِي لَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی غنی کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے، علاوہ اس غنی کے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے یا وہ مسافر ہے یا کوئی تیرا پڑوسی محتاج ہے، اس کو صدقہ دیا جاتا ہے تو وہ تجھے تحفہ دیتا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِلْغَنِيِّ إِذَا كَانَ فِي سَبِيلِ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی غنی کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے، علاوہ اس غنی کے جو اللہ کے راستے میں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي قُرَّةَ قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أُنَاسًا يَأْخُذُونَ مِنْ هَذَا الْمَالِ لِيُجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ يُخَالِفُونَ وَلَا يُجَاهِدُونَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمَالِهِ حَتَّى نَأْخُذَ مِنْهُ مَا أَخَذَ " قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَقُمْتُ إِلَى أُسَيْدِ بْنِ عَمْرٍو، فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى إِلَى مَا حَدَّثَنِي بِهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي قُرَّةَ وَحَدَّثْتُهُ بِهِ؟ فَقَالَ: صَدَقَ جَاءَنَا بِهِ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن ابی قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، اس میں لکھا تھا کہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑنے کے لیے مال لے لیتے ہیں، پھر وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے، جس نے یہ کام کیا ہم زیادہ حق دار ہیں اس مال کے یہاں تک کہ ہم ان سے وہ مال لے لیں جو انہوں نے جہاد کے نام پر لیا۔
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں اسید بن عمرو کے پاس گیا اور کہا: کیا آپ نے دیکھا جو عمرو بن ابی قرہ نے مجھ سے بیان کیا ہے؟ اور میں نے انہیں وہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط یہی (حکم) لے کر ہمارے پاس آیا تھا۔
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں اسید بن عمرو کے پاس گیا اور کہا: کیا آپ نے دیکھا جو عمرو بن ابی قرہ نے مجھ سے بیان کیا ہے؟ اور میں نے انہیں وہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط یہی (حکم) لے کر ہمارے پاس آیا تھا۔