السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: سهم ابن السبيل باب: ابن السبیل (مسافر) کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 13202
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ ابْنُ أَبِي يَعْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، أَوْ يَكُونُ لَكَ جَارٌ مِسْكِينٌ، فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَيُهْدِي لَكَ " وَهَذَا إِنْ صَحَّ، فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ ابْنَ سَبِيلٍ غَنِيًّا فِي بَلَدِهِ مُحْتَاجًا فِي سَفَرِهِ، وَحَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَصَحُّ طَرِيقًا، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ ابْنِ السَّبِيلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی غنی کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے اس بندے کے علاوہ جو اللہ کے راستے میں ہے اور مسافر بندہ یا تیرا کوئی پڑوسی جو مسکین ہو اس کو صدقہ دیا گیا ہو اور وہ تجھے تحفہ دے دے۔“
اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، وہ مسافر ہے جو اپنے شہر میں مال دار ہو اور سفر میں محتاج ہو۔ اور عطاء بن یسار کی سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے اور اس میں مسافر کا ذکر نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔