السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: سهم سبيل الله باب: فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے) کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 13201
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي قُرَّةَ قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أُنَاسًا يَأْخُذُونَ مِنْ هَذَا الْمَالِ لِيُجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ يُخَالِفُونَ وَلَا يُجَاهِدُونَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمَالِهِ حَتَّى نَأْخُذَ مِنْهُ مَا أَخَذَ " قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَقُمْتُ إِلَى أُسَيْدِ بْنِ عَمْرٍو، فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى إِلَى مَا حَدَّثَنِي بِهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي قُرَّةَ وَحَدَّثْتُهُ بِهِ؟ فَقَالَ: صَدَقَ جَاءَنَا بِهِ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن ابو مرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خط آیا، اس میں لکھا تھا کہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑنے کے لیے مال لے لیتے ہیں، پھر وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے، جس نے یہ کام کیا ہم زیادہ حق دار ہیں اس مال کے یہاں تک کہ ہم ان سے وہ مال لے لیں جو انہوں نے جہاد کے نام پر لیا۔